Business
وال اسٹریٹ نیسڈیک نئی بلند ترین سطح پر، اے آئی کا جنون
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث وال اسٹریٹ کا نیسڈیک انڈیکس نئی تاریخی بلندی پر پہنچ گیا۔ سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات کو نظر انداز کرتے ہوئے مارکیٹ کو اس مقام تک پہنچایا۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے جہاں وال اسٹریٹ کا نیسڈیک انڈیکس مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں جاری سرمایہ کاری کی دوڑ کے باعث تمام سابقہ ریکارڈ توڑتے ہوئے نئی ہمہ وقت بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس تازہ ترین اضافے نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ہے، جو کہ ٹیکنالوجی کے مستقبل پر پختہ یقین کی عکاسی کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس شاندار تیزی کی بنیادی وجہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی نئی مصنوعات اور خدمات کی تیزی سے مارکیٹ میں آمد ہے۔ سرمایہ کار اس شعبے میں منافع بخش مواقع دیکھ رہے ہیں اور کھل کر فنڈز فراہم کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران مارکیٹ کے شرکاء نے دنیا بھر میں پائی جانے والی جغرافیائی سیاسی کشیدگی بالخصوص ایران جنگ کے خدشات کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، مصنوعی ذہانت کے استعمال سے جڑے ممکنہ حفاظتی خطرات اور اخلاقی مباحث بھی سرمایہ کاروں کے جوش و خروش کو ماند کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کار فی الحال قلیل مدتی خطرات کے مقابلے میں طویل مدتی تکنیکی ترقی اور اس سے حاصل ہونے والے مالیاتی فوائد کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ نیسڈیک کی یہ ریکارڈ ساز کارکردگی نہ صرف ٹیکنالوجی کے شعبے کے لیے ایک بڑا سنگ میل ہے بلکہ یہ مجموعی طور پر عالمی معیشت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ تاہم، کچھ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کی تیزی بعض اوقات مارکیٹ میں ببل کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے احتیاط برتنا بھی ضروری ہے۔