World
اقوام متحدہ میں غزہ پر بحث، فرانس کی تنقید اور فلسطینی ریاست کی حمایت
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فرانسیسی صدر نے غزہ میں جاری انسانی مصائب کو عالمی ضمیر کے لیے لمحہ فکریہ قرار دیا ہے۔ اس موقع پر کینیڈا اور برطانیہ نے دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہوئے فلسطینی کاز کے لیے بڑے مالی امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران مشرق وسطیٰ کی صورتحال بالخصوص غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید بحث دیکھنے میں آئی ہے۔ فرانسیسی صدر نے اس موقع پر عالمی برادری کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے عوام کی تکالیف اور مصائب دنیا کے تمام ممالک کے لیے شرمناک ہونے چاہئیں اور عالمی برادری اس انسانی المیے کو مزید نظر انداز نہیں کر سکتی۔ فرانسیسی رہنما کے اس بیان نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جہاں کئی ممالک فوری جنگ بندی اور امداد کی فراہمی پر زور دے رہے ہیں۔دوسری جانب کینیڈا اور برطانیہ نے بھی اس اہم پلیٹ فارم سے دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ کینیڈا کی جانب سے دو ریاستی حل کی کوششوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ااتتر ملین ڈالر کی خطیر رقم دینے کا وعدہ کیا گیا ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو تقویت مل سکے۔ اس مالیاتی امداد کا مقصد فلسطینی اداروں کی مضبوطی اور سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔برطانیہ اور کینیڈا کے اس اقدام کو بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے دیرپا حل کے لیے عالمی دباؤ کو بڑھانا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے اس فورم پر مغربی ممالک کے موقف میں یہ تبدیلی فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، زمینی حقائق تاحال انتہائی گھمبیر ہیں اور غزہ کے عوام کو فوری بنیادوں پر انسانی امداد کی فراہمی سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔