World
برطانیہ کا غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت کا اعلان اور اسرائیلی بستیوں پر پابندی
برطانوی وزیراعظم نے اسرائیل کی غزہ جنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے فلسطینیوں کو درپیش مصائب پر خاموش نہ رہنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانیہ کی جانب سے پابندیاں عائد کرنے کی وجوہات بھی واضح کی ہیں۔
برطانیہ کے وزیراعظم نے اپنے ایک سخت بیان میں واضح کیا ہے کہ برطانوی حکومت فلسطینی عوام کو درپیش مصائب اور مشکلات پر کبھی بھی خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری جنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور خطے میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی قیادت کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں کا اس طرح نشانہ بننا ناقابل قبول ہے اور بین الاقوامی برادری کو اس معاملے پر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔
اس کے علاوہ، برطانوی وزیراعظم نے وضاحت کی ہے کہ ان کی حکومت نے مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیاں کیوں عائد کی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پابندیاں بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور دو ریاستی حل کے امکانات کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری تھیں۔ برطانیہ کا یہ قدم خطے میں امن کی کوششوں کا حصہ ہے تاکہ زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بستیاں بسانے کے عمل کو روکا جا سکے جو کہ امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
برطانیہ کے اس مؤقف کو بین الاقوامی سطح پر اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق برطانوی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے یہ اقدامات مستقبل میں دیگر مغربی ممالک کو بھی فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور سخت فیصلے کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔