World
جنوبی سوڈان میں انتخابات سے قبل حکومت تحلیل، صدر کے اختیارات پر تشویش
جنوبی سوڈان کے صدر سالوا کیر نے ملک میں طویل عرصے سے تاخیر کا شکار ہونے والے پہلے قومی انتخابات کی راہ ہموار کرنے کے لیے حکومت کو تحلیل کر دیا ہے۔ اس اقدام سے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ صدر بغیر کسی چیک اینڈ بیلنس کے لامحدود اختیارات استعمال کر سکتے ہیں۔
جنوبی سوڈان کے صدر سالوا کیر نے ملک میں تاریخ کے پہلے قومی انتخابات کے انعقاد سے قبل حکومت کو باضابطہ طور پر تحلیل کر دیا ہے۔ اس سیاسی پیش رفت کا بنیادی مقصد طویل عرصے سے التوا کا شکار ان انتخابات کی راہ میں حائل تمام قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے تاکہ ملک میں جمہوریت کی بحالی کی طرف اگلا قدم بڑھایا جا سکے۔ حکومت کے خاتمے کے بعد اب نئے سیاسی ڈھانچے اور انتخابی لائحہ عمل پر کام شروع کیے جانے کی توقع ہے۔ تاہم، اس اچانک اور بڑے فیصلے نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر گہری تشویش کو جنم دے دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کا ماننا ہے کہ حکومت کی تحلیل کے نتیجے میں صدر سالوا کیر کے ہاتھ میں مزید غیر معمولی اور مطلق اختیارات آ گئے ہیں، جو بغیر کسی مؤثر چیک اینڈ بیلنس کے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اس صورتحال سے ملک میں سیاسی استحکام متاثر ہو سکتا ہے اور حزب اختلاف کے ساتھ تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ جنوبی سوڈان جو پہلے ہی طویل خانہ جنگی اور شدید اقتصادی بحران کے اثرات سے دوچار ہے، اس وقت ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ عوام اور بین الاقوامی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا حکومت کی تحلیل کے بعد ہونے والے یہ انتخابات شفاف اور منصفانہ ہوں گے یا پھر اس کے ذریعے سیاسی کشمکش میں مزید شدت آئے گی۔