LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین اور روس میں توانائی کے نظام پر عارضی جنگ بندی کا امکان

News Image
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ اگر روس یوکرین کے توانائی کے نظام پر حملے بند کر دے تو کیف بھی روسی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے۔ یہ پیشکش امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک روس کے ساتھ توانائی کے شعبے میں جنگ بندی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ماسکو حکومت یوکرین کے پاور گرڈ اور توانائی کے دیگر بنیادی ڈھانچے پر بمباری اور حملے بند کر دیتی ہے، تو کیف بھی جوابی کارروائی کے طور پر روسی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا بند کر دے گا۔ یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ یوکرین کی قیادت کی اہم بات چیت ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ممکنہ معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری شدید تنازع کے دوران عام شہریوں کو سردیوں کے موسم میں درپیش شدید مشکلات سے بچانا ہے۔ یوکرین کا توانائی کا نظام گزشتہ چند ماہ کے دوران روسی فضائی حملوں کی وجہ سے شدیدمتاثر ہوا ہے، جس سے ملک بھر میں بجلی اور گیس کی فراہمی میں خلل پڑا ہے۔ صدر زیلنسکی کا یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ کیف بین الاقوامی ثالثی اور خصوصاً واشنگٹن کی نئی سفارتی کوششوں کے تحت تناؤ کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ دوسری جانب، ماسکو کی طرف سے اس نئی تجویز پر تاحال کوئی حتمی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ کریملن پہلے بھی اس طرح کی عارضی اور جزوی جنگ بندی کی تجاویز پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے ڈالا جانے والا دباؤ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس مجوزہ توانائی کے معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔