LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفارتی کوششیں اور امریکہ ایران مذاکرات

News Image
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کی کوششوں کو عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے نیویارک میں اہم ملاقاتیں کیں جن میں علاقائی امن کے فروغ پر زور دیا گیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے دوران پاکستان کا کردار انتہائی نمایاں اور مرکزِ نگاہ رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ڈپٹی وزیراعظم و وزاتِ خارجہ کے امور سنبھالنے والے اسحاق ڈار نے مصروف ترین دن گزارا اور دنیا بھر کے رہنماؤں کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔ پاکستان کی جانب سے مسلسل یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ امریکہ اور ایران کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لایا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ اور خطے کے تناؤ کو کم کیا جا سکے، جس نے عالمی تجارت اور توانائی کی مارکیٹوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی تقریر کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کا ذکر کیا اور انہیں ایک شاندار انسان قرار دیا۔ امریکی صدر کا یہ بیان پاکستان کی فعال سفارت کاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دریں اثنا، امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ ان کی ٹیم کی ایرانی وفد کے ساتھ نیویارک میں ایک طویل اور نتیجہ خیز ملاقات ہوئی ہے، جس سے دوطرفہ کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور ان کے ترجمان نے بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس کردار کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قیادت کی جانب سے واشنگتن اور تہران کے درمیان ثالثی کا عمل خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔ دوسری جانب، نیویارک میں ریجنل فور (R-4) گروپ کا اہم وزارتی اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ شرکت کی۔ اس اجلاس میں علاقائی سلامتی، پائیدار امن اور اسلام آباد مفاہمت نامے (MoU) پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی خطے کے تمام تنازعات کا واحد مستقل حل ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اقوام متحدہ کے سائیڈ لائنز پر صومالیہ، آسٹریا، کینیا اور کویت سمیت کئی ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں کیں جن میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔