LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد ہائی کورٹ کا ڈاکٹروں کے اوقات کار پر پی ایم ڈی سی کو نوٹس

News Image
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹروں کے لیے ہفتہ وار 102 گھنٹے کام کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینچل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ طویل ڈیوٹی اور تھکن کے باعث مریضوں کی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جج نے ڈاکٹروں کے طویل اور کٹھن کام کے اوقات کے معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینچل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو اس معاملے کا جائزہ لینے اور اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ کسی بھی ڈاکٹر سے ہفتے میں 102 گھنٹے کام لینا سراسر غیر انسانی عمل ہے، جس سے نہ صرف طبی عملے کی اپنی صحت شدید متاثر ہوتی ہے بلکہ مریضوں کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ عدالت نے فریقین کی رضامندی سے اس آئینی درخواست کو پی ایم ڈی سی کے سامنے ایک باضابطہ نمائندگی میں تبدیل کر دیا ہے۔ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (سی پی ایس پی) کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مسلسل 18 گھنٹے کام کرنے والے ڈاکٹروں کی کارکردگی اتنی متاثر ہوتی ہے کہ ان کا ذہنی توازن خون میں مخصوص الکوحل کی سطح کے برابر ہو جاتا ہے، جبکہ 24 گھنٹے کی مسلسل ڈیوٹی کے بعد یہ سستی اور تھکن مزید بڑھ جاتی ہے۔ رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ شدید تھکن کے عالم میں کسی تھکے ہوئے ڈاکٹر سے درست طبی فیصلوں یا پیچیدہ سرجری کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ بین الاقوامی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یورپ میں کام کے اوقات کی حد 48 گھنٹے فی ہفتہ ہے، امریکہ میں یہ حد 80 گھنٹے ہے، جبکہ بھارت اور دیگر ممالک میں بھی ڈاکٹروں کے اوقاتِ کار کو محدود کرنے کے لیے باقاعدہ قوانین موجود ہیں۔ دوسری جانب، سی پی ایس پی نے اپنے وضاحتی بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ خود ڈاکٹروں کو ملازم نہیں رکھتی اور نہ ہی ان کے اوقاتِ کار مقرر کرنے کا اختیار رکھتی ہے، کیونکہ یہ متعلقہ صوبائی حکومتوں یا نجی اداروں کا دائرہ اختیار ہے۔ کونسل کا بنیادی کردار تسلیم شدہ اداروں میں تربیتی پروگراموں کی نگرانی کرنا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ڈاکٹروں کی ذہنی و جسمانی تھکن میں صرف گھنٹوں کی تعداد کا عمل دخل نہیں ہوتا بلکہ کام کرنے کے ماحول، شدید گرمی، اور ائیر کنڈیشنگ کی عدم موجودگی جیسے عوامل بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عدالت نے پی ایم ڈی سی کو حکم دیا ہے کہ وہ اس تمام صورتحال کا بغور جائزہ لے کر جلد از جلد اپنی سفارشات تیار کرے اور انہیں مناسب قانونی و انتظامی کارروائی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سامنے پیش کرے۔ اس اقدام کا مقصد ڈاکٹروں کو کام اور زندگی کا ایک بہتر توازن فراہم کرنا اور اسپتالوں میں مریضوں کے لیے محفوظ طبی ماحول کو یقینی بنانا ہے، تاکہ طبی عملے کی غفلت یا تھکن کی وجہ سے ہونے والی انسانی غلطیوں کو کم سے کم کیا جا سکے۔