Health
میڈیڈیکل ٹریبونل کا معطل ڈاکٹروں کو امتحانات میں بیٹھنے کی اجازت کا فیصلہ
میڈیکل ٹریبونل نے لیڈی ولنگٹن اسپتال میں دورانِ سرجری تعلیمی ویڈیو بنانے کے معاملے میں دو معطلی کے شکار پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کو بڑی ریلیف دیتے ہوئے امتحانات میں شرکت کی اجازت دے دی ہے۔ ٹریبونل کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ ضبط و ضبط اور تعلیمی کیریئر کے تحفظ کے درمیان واضح فرق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اسلام آباد میں قائم ایک میڈیکل ٹریبونل نے اپنے دو اہم عبوری احکامات میں پیشہ ورانہ نظم و ضبط اور تعلیمی حق کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچتے ہوئے دو پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کو اپنی تربیت جاری رکھنے اور آنے والے حتمی امتحانات میں شرکت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے سے ان ڈاکٹروں کو بڑی راحت ملی ہے جن کے طبی لائسنس ماضی میں دو سال کے لیے معطل کر دیے گئے تھے۔ ریٹائرڈ جسٹس صفدر سلیم شاہد کی سربراہی میں تین رکنی ٹریبونل نے ڈاکٹر طیبہ فاطمہ تور اور ڈاکٹر محمد عیسیٰ کی طرف سے دائر کردہ اپیلوں پر سماعت کی اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینچل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے اس فیصلے کے اثرات کو عارضی طور پر معطل کر دیا جس کے تحت ان کے میڈیکل رجسٹریشن لائسنس معطل ہوئے تھے۔ تاہم ٹریبونل نے واضح کیا ہے کہ یہ عبوری ریلیف صرف ان کے تعلیمی کیریئر کو بچانے کے لیے ہے اور اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ وہ فوری طور پر آزادانہ طبی پریکٹس کرنے کے مجاز ہوں گے۔ یاد رہے کہ یہ پورا معاملہ رواں برس کے آغاز میں لاہور کے لیڈی ولنگٹن اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں مبینہ طور پر 'تعلیمی ویڈیو' ریکارڈ کرنے اور اس کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس واقعہ کو 'او ٹی ویڈیو لیک اسکینڈل' کا نام دیا گیا تھا جس میں پانچ پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز کے خلاف تحقیقات کی گئیں اور بعد ازاں پی ایم ڈی سی کی ڈسپلنری کمیٹی نے ان کے میڈیکل پریکٹس کے لائسنس دو سال کے لیے معطل کر دیے تھے۔ معطلی کے اس فیصلے کے خلاف متاثرہ ڈاکٹروں نے میڈیکل ٹریبونل سے رجوع کیا تھا جہاں اب ان کی درخواستوں پر یہ عبوری احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ ٹریبونل نے اپنے فیصلے میں اس نکتہ پر خصوصی زور دیا کہ ایک تعلیمی پروگرام کو جاری رکھنے اور امتحانات میں شرکت کرنے کی اجازت دینے، اور آزادانہ طور پر طبی پریکٹس کرنے کے لائسنس میں ایک بنیادی فرق موجود ہے۔ عدالت نے آبزرو کیا کہ اگر ان ڈاکٹروں کو امتحانات میں بیٹھنے سے روکا گیا اور بعد میں ان کی اپیلیں منظور ہو بھی گئیں تو جو تعلیمی نقصان ہو گا اس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی۔ وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ دونوں ڈاکٹرز اپنی تربیت کا بیشتر حصہ مکمل کر چکے ہیں اور ان کے حتمی امتحانات چند ماہ میں متوقع ہیں۔ ٹریبونل کا یہ حکم اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ زیر التواء اپیلوں کے فیصلے تک طلباء کا تعلیمی مستقبل داؤ پر نہ لگے۔ یہ مقدمات اب اپنی میرٹ پر ٹریبونل میں مزید کارروائی کے لیے آگے بڑھیں گے، جبکہ اس عبوری فیصلے سے متاثرہ ڈاکٹروں کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کا سنہری موقع مل گیا ہے۔