LIVE
Loading Breaking News...

گلگت بلتستان میں 17.2 ارب روپے کا موسمیاتی لچک کا منصوبہ لانچ

News Image
فرانسیسی ترقیاتی ایجنسی، یورپی یونین اور آغا خان فاؤنڈیشن کے اشتراک سے گلگت بلتستان میں موسمیاتی لچک اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے 17.2 ارب روپے کا بڑا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے۔ اس جامع منصوبے سے خطے کے ہزاروں گھرانوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا اور توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ماسٹر پلان بھی پیش کیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات سے نمٹنے اور خطے کے مکینوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے 54.24 ملین یورو یعنی تقریباً 17.2 ارب روپے مالیت کے ایک اہم منصوبے کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ فرانسیسی ترقیاتی ایجنسی، گلگت بلتستان حکومت، یورپی یونین اور آغا خان فاؤنڈیشن کے اشتراک سے شروع کیے جانے والے اس گلگت بلتستان رورل ڈویلپمنٹ اینڈ کلائمیٹ ریزিলینس منصوبے کا مقصد خطے میں موسمیاتی لحاظ سے محفوظ بنیادی ڈھانچہ، بنیادی خدمات کی فراہمی، قابل تجدید توانائی اور ادارہ جاتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اس اہم معاہدے پر گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹریٹ میں متعلقہ حکام نے دستخط کیے۔ اس موقع پر گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ، یورپی یونین کے پاکستان میں سفیر اور دیگر اعلیٰ شخصیات بھی موجود تھیں۔ یہ منصوبہ خطے کے تمام اضلاع کا احاطہ کرے گا اور اس کے تحت پانی اور صفائی ستھرا کے درجنوں منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ پن بجلی کے مختلف اقدامات کے ذریعے تقریباً بارہ سو سے تیرہ سو کلو واٹ صاف توانائی پیدا کرنے کی توقع بھی کی جا رہی ہے۔ منصوبے کے تحت تمام گیارہ یونین کونسلز میں خطرات کا تخمینہ لگایا جائے گا جبکہ ہزاروں گھرانوں کو سبز اور توانائی سے بھرپور تعمیرات کے لیے معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام سے خطے کے تقریباً اڑتالیس ہزار گھرانوں اور تین لاکھ پچیس ہزار سے زائد افراد کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جن میں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہوگی۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ منصوبہ پائیدار ترقی اور کمیونٹیز کو موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے بچانے کی سمت میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ تقریب کے دوران ناردرن پاکستان انرجی لمیٹڈ نے گلگت بلتستان انرجی ماسٹر پلان کے اہم نکات بھی پیش کیے جو تیس سالہ روڈ میپ پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد خطے میں توانائی کے دیرینہ بحران کو حل کرنا اور قابل تجدید توانائی کے ذخائر سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہے۔ یورپی یونین اور فرانسیسی ترقیاتی ایجنسی کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ یہ اقدام گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں پائیدار مستقبل اور بنیادی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے میں انتہائی معاون ثابت ہوگا۔