Politics
پیپلز پارٹی کا اسلام آباد لانگ مارچ مسترد، مذاکرات پر زور
پاکستان پیپلز پارٹی نے 27 ستمبر کو پشاور سے اسلام آباد تک کے اپوزیشن کے طویل مارچ کو مسترد کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن پر زور دیا ہے کہ وہ ٹکراؤ سے گریز کریں۔ پارٹی رہنما نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ سیاسی مسائل کو سڑکوں کے بجائے پارلیمنٹ اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پیپلز پارٹی) نے اپوزیشن کی جانب سے 27 ستمبر کو پشاور سے وفاقی دارالحکومت تک طویل مارچ کرنے کے اعلان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں حکومت اور اپوزیشن دونوں سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ عوام پر رحم کریں اور کسی بھی قسم کے ٹکراؤ سے گریز کریں۔ پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیر حسین بخاری نے منگل کو اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد میں بار بار ہونے والے مارچز اور دھرنے عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کرتے ہیں اور معمول کی معاشی و سماجی سرگرمیاں ٹھپ ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چاہے 9 مئی ہو یا 26 نومبر، اس کشمکش کی قیمت ہمیشہ عام آدمی کو چکانی پڑتی ہے اور ملک و قوم کا نقصان ہوتا ہے۔
نیر حسین بخاری نے زور دے کر کہا کہ ملک کو کسی بھی صورت مزید سیاسی تصادم اور محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکمران اتحاد اور اپوزیشن کو اپنی ضد چھوڑ کر سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہتی ہے۔ موجودہ ملکی حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ دونوں فریقین سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کریں اور قومی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفادات پر مقدم رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل دھرنے، طاقت کا استعمال یا احتجاج نہیں بلکہ صرف اور صرف مذاکرات اور آئینی و جمہوری طریقے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کوئی بادشاہت نہیں ہے بلکہ ملک آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کے تحت چلایا جائے گا۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود پاکستان میں پیٹرول مہنگا کیا جا رہا ہے، جس نے غریب عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ آئین اور وفاق کے امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے صوبوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد لے سکتی ہے، تاہم تمام معاملات آئینی طریقہ کار کے مطابق طے ہونے چاہئیں۔
اپنے بیان کے اختتام پر نیر حسین بخاری نے تاریخی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نیلسن منڈیلا بھی جیل توڑ کر نہیں بلکہ مذاکرات کے نتیجے میں باہر آئے تھے، لہذا پاکستان کے سیاسی چیلنجز کا حل بھی بات چیت، آئین اور پارلیمنٹ کے فورم پر ہی تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ سیاسی عدم استحکام ملک کے کسی بھی طبقے کے مفاد میں نہیں ہے اور تمام فریقین کو جمہوری اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔