World
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: اسرائیلی حکام کا نیا انتباہ
اسرائیلی سیکیورٹی حکام نے مشرق وسطیٰ میں تنازعہ مزید شدت اختیار کرنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب نے واضح کیا ہے کہ دوبارہ حملہ ہونے پر ایران کو شدید ترین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسرائیلی سیکیورٹی حکام نے مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ جیروزلم پوسٹ اور دیگر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی حکام نے ممکنہ فوجی اور اسٹریٹجک محاذ آرائی کے پیش نظر اپنی تیاریوں کو مزید موثر بنانا شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مستقل مندوب نے اپنے حالیہ بیانات میں دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے اسرائیل پر دوبارہ کوئی بھی عسکری حملہ کیا گیا تو تل ابیب انتہائی سخت اور بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی ریاست اپنی سلامتی کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے اور ایران کو اس کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، اسرائیل کی توجہ اب صرف سات روایتی محاذوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا اسٹریٹجک فوکس براہ راست ایران پر بھی مرکوز ہو چکا ہے۔ خطے میں سفارتی کوششیں سست روی کا شکار ہیں جبکہ عسکری سطح پر تناؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس سے پورے خطے کا امن خطرے میں پڑنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
عالمی برادری اور خطے کے دیگر ممالک اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور مختلف سفارتی ذرائع سے جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم، زمینی حقائق اور فریقین کے تلخ بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا یہ دور مزید طویل اور خطرناک ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور سیکیورٹی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔