LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور گرین لینڈ کا نیا فوجی معاہدہ اور مستقبل کے چیلنجز

News Image
گرین لینڈ کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے نئے فوجی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے تاہم مقامی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کا فقدان اب بھی برقرار ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ میں دو نئے فوجی اڈے تعمیر کیے جائیں گے۔
گرین لینڈ کی انتظامیہ نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے ایک اہم فوجی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، جس کے تحت خطے میں دو نئے فوجی اڈے تعمیر کیے جائیں گے۔ اس معاہدے کو ڈنمارک اور امریکہ کے مابین تعلقات میں ایک نیا موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد آرکٹک کے خطے میں بڑھتی ہوئی کشمکش کو ختم کرنا اور سکیورٹی امور کو بہتر بنانا ہے۔ عالمی سطح پر اس پیش رفت کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ آرکٹک کے اس خطے میں جغرافیائی اور سیاسی لحاظ سے تمام بڑی طاقتوں کی گہری دلچسپی موجود ہے۔ اگرچہ سرکاری سطح پر اس معاہدے کو خطے کے استحکام کے لیے مفید قرار دیا جا رہا ہے، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ مقامی آبادی اور سیاسی حلقوں میں امریکہ اور ڈنمارک کے حوالے سے اعتماد کا فقدان اب بھی پایا جاتا ہے۔ ماضی کے بعض سیاسی فیصلوں اور کشیدہ بیانات کی وجہ سے گرین لینڈ کے عوام کے دلوں میں شکوک و شبہات موجود ہیں کہ آیا اس قسم کے معاہدے ان کے مفاد میں ہیں یا نہیں یا پھر وہ کسی بڑی عالمی طاقت کی رسہ کشی کا شکار ہو جائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فوجی معاہدے سے جہاں ایک طرف امریکہ کو آرکٹک کے علاقے میں اپنی عسکری موجودگی بڑھانے کا موقع ملے گا، وہیں دوسری طرف ڈنمارک اور گرین لینڈ کو مقامی خودمختاری اور تحفظ کے حوالے سے مزید ضمانتیں حاصل کرنا ہوں گی۔ امریکہ کے سابقہ دورِ حکومت میں بھی گرین لینڈ کو خریدنے یا وہاں اثر و رسوخ بڑھانے کے حوالے سے جو بیانات سامنے آئے تھے، انہوں نے مقامی سیاست میں ایک ہلچل مچا دی تھی اور اس نئے معاہدے کے بعد بھی وہی پرانی یادیں تازہ ہو رہی ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ معاہدے کی منظوری کے باوجود آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر کافی احتیاط برتنی ہوگی۔ امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے مابین تعلقات کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ اس معاہدے پر عمل درآمد کے دوران مقامی مفادات کا کتنا خیال رکھا جاتا ہے اور کیا اس سے آرکٹک کے خطے میں واقعی پائیدار امن قائم ہو پائے گا یا عدم اعتماد کی یہ فضا مزید گہری ہو گی۔