LIVE
Loading Breaking News...

مسلم بلاک کا اسرائیل سے غزہ امن منصوبہ نافذ کرنے کا مطالبہ

News Image
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ امن منصوبے کی مکمل پاسداری کرے اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے۔ اس حوالے سے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی امن پلان کے نفاذ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک پر مشتمل ایک اہم مسلم بلاک نے اسرائیل سے شدید مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کے حوالے سے طے پانے والے امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سفارتی مہم کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور فلسطینی عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں امن کی کوششوں کے سامنے بڑی رکاوٹ ہیں، جنہیں فوری طور پر روکا جانا ذریعے۔ ترکیہ اور دیگر شریک ممالک کے ساتھ مل کر اس مشترکہ مؤقف میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ غزہ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس پلیٹ فارم سے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان اس امن منصوبے کے مکمل نفاذ کی پرزور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازع کے پائیدار حل کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین بالخصوص اسرائیل معاہدے کی شرائط کا احترام کرے تاکہ خطے میں خونریزی کا سلسلہ بند ہو سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، حالیہ ڈپلومیٹک پیش رفت خطے کے ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی کو ظاہر کرتی ہے جو غزہ کے بحران کے حل کے لیے سنجیدہ ہیں۔ مسلم ممالک کا یہ اتحاد اس بات کا مظہر ہے کہ وہ فلسطینی کاز پر یکسو ہیں اور اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کے لیے ہر ممکن سفارتی فورم استعمال کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی اس مطالبے کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ انسانی بنیادوں پر غزہ میں امداد کی فراہمی اور عسکری کارروائیوں کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس مشترکہ کوشش کے مزید مثبت نتائج برآمد ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، بشرطیکہ اسرائیل عالمی مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے معاہدے کی پاسداری کریں۔ مسلم بلاک نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ غزہ کے عوام کے حقوق اور سلامتی کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتے رہیں گے اور امن کے قیام تک اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے۔