World
شی جن پنگ کا دورہ امریکہ: وائٹ ہاؤس میں اہم پاک-چین و پاک-امریکہ نہیں بلکہ پاک نہیں بلکہ پاک-چین جیسے نہیں بلکہ امریکی-چینی مذاکرات
چینی صدر شی جن پنگ تیئیس سے پچیس ستمبر تک امریکہ کا تاریخی دورہ کریں گے جہاں وہ امریکی قیادت سے دو طرفہ تجارت اور مصنوعی ذہانت کے امور پر بات چیت کریں گے۔ اس سربراہی اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اور ممکنہ تجارتی معاہدوں کی توقع کی جا رہی ہے۔
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس چینی صدر شی جن پنگ کے انتہائی متوقع اور تاریخی دورے کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے۔ چینی صدر تئیس سے پچیس ستمبر کے دوران امریکہ کا دورہ کریں گے جہاں وہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں شرکت کریں گے۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی استحکام، ٹیرف کے مسائل اور دیگر تزویراتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، شی جن پنگ کے آخری دورہ امریکہ کے بعد سے بین الاقوامی اور معاشی منظرنامے میں کافی تبدیلیاں آ چکی ہیں، جن میں چین کی پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ اس بار کے مذاکرات میں دونوں رہنماؤں کا بنیادی مقصد دوطرفہ تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنا اور معاشی تعاون کے نئے راستے تلاش کرنا ہے۔ ملاقات کے ایجنڈے میں تجارت کے علاوہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ممکنہ خطرات اور مسابقت کا موضوع بھی سرفہرست رہے گا۔ دنیا کی دو بڑی اقتصادی طاقتیں ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مسابقت کے تناظر میں ضوابط طے کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، عالمی سطح پر ایران اور دیگر علاقائی امور بھی اس سربراہی اجلاس میں زیر بحث آئیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سیاسی محاذ پر اختلافات برقرار ہیں، تاہم اس اعلیٰ سطح کے اجلاس سے دنیا بھر کے مالیاتی اور کاروباری حلقوں کو ایک مثبت پیغام جانے کی توقع ہے۔