LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز کی بندش اور ایران امریکہ مذاکرات کا احوال

News Image
ایران نے امریکہ کی جانب سے فوجی دباؤ اور ناکہ بندی میں نرمی لائے جانے کی صورت میں سات روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کر دی ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے پر مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ہی پیشرفت ہو سکتی ہے۔
تہران نے عالمی سطح پر اہمیت کے حامل اہم بحری راستے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط باضابطہ طور پر پیش کر دی ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اپنی فوجی کشیدگی اور معاشی ناکہ بندی میں کمی کرتا ہے تو اس اہم آبی گزرگاہ کو محض سات دنوں کے اندر بحال کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پیشکش امریکی مندوبین تک پہنچا دی گئی ہے جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور تجارتی بحران سے نمٹنا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا بھر کے تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم رستہ ہے اور اس کی بندش سے بین الاقوامی منڈیوں پر شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیشرفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی جامع یا پائیدار معاہدے کے امکانات ملک میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ہی روشن ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ اس معاملے پر کافی محتاط انداز میں آگے بڑھ رہی ہے اور اندرونی سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کے دروازے کھلنا ایک خوش آئند قدم ہے، تاہم زمینی حقائق اور مطالبات میں مطابقت پیدا کرنا ایک طویل اور پیچیدہ عمل ثابت ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور بالخصوص توانائی کے شعبے سے وابستہ ادارے اس بحران کے پرامن حل کے لیے پُرامید ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے جس سے دنیا بھر کی معیشتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی شرائط پر اتفاق رائے ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت بحال ہوگی بلکہ خطے میں ایک بڑی جنگ کے خطرات بھی ٹل سکتے ہیں۔ آئندہ چند ہفتے دونوں ممالک کے تعلقات اور اس سفارتی کوشش کے مستقبل کے تعین میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گے۔