LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کا چاگوس جزائر معاہدے پر نظرثانی کا فیصلہ

News Image
برطانیہ نے چاگوس جزائر سے متعلق معاہدے پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ واشنگٹن کی جانب سے اس معاہدے کو مطلوبہ حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹنپ نے اس معاہدے کو انتہائی خطرناک اور خراب قرار دیا ہے۔
برطانیہ نے چاگوس جزائر سے متعلق اپنے حالیہ معاہدے کا از سر نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی تصدیق برطانوی حکومت کے اہم وزراء کی طرف سے کی گئی ہے۔ برطانوی وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ معاہدے پر نظرثانی کی جا رہی ہے کیونکہ اس معاملے میں واشنگٹن کی طرف سے خاطر خواہ حمایت فراہم نہیں کی جا رہی۔ ذرائع کے مطابق یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب امریکی قیادت کی جانب سے اس معاہدے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اینڈی برہم سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ یہ معاہدہ کسی بھی طرح سے درست نہیں ہے اور اسے ایک انتہائی نامناسب اور خطرناک قدم قرار دیا تھا۔ امریکی مخالفت کے بعد برطانوی حکومت پر اندرونی اور بیرونی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر حکام اب اس معاہدے کے ممکنہ اثرات اور سکیورٹی خدشات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ دوطرفہ تعلقات اور اسٹریٹجک مفادات کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بحر ہند میں واقع ڈিয়েگو گارسیا کے فوجی اڈے کی اہمیت دونوں ممالک کے لیے انتہائی زیادہ ہے، اور امریکہ کی منظوری کے بغیر اس نوعیت کے معاہدے کو آگے بڑھانا برطانوی حکومت کے لیے سفارتی سطح پر ایک چیلنج بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر اس معاملے پر نظرثانی کا عندیہ دیا ہے تاکہ واشنگٹن کے ساتھ دفاعی اور سٹریٹجک تعاون کو برقرار رکھا جا سکے۔ برطانوی وزارت دفاع کے حکام آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے تمام قانونی اور اسٹریٹجک پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور اس کے بعد ہی حتمی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی حکومت کی اس پالیسی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے، جس سے برطانوی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر گرما گرم بحث متوقع ہے۔