LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ اور برہم کی پہلی ملاقات کا اندرونی احوال

News Image
بی بی سی کے سیاسی ایڈیٹر کرس میسن نے انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پہلی ملاقات کے دوران برہم ابتدا میں کافی گھبرائے ہوئے تھے۔ تاہم انہوں نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس چیلنجنگ صورتحال کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے سیاسی ایڈیٹر کرس میسن نے حال ہی میں ایک انتہائی دلچسپ اندرونی کہانی شیئر کی ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح برہم نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات کا کامیابی کے ساتھ سامنا کیا۔ سیاست کی دنیا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقاتوں کو ہمیشہ سے غیر متوقع اور بعض اوقات دھماکہ خیز قرار دیا جاتا ہے، اور یہی وجہ تھی کہ اس ملاقات کے آغاز میں برہم کے اندر کچھ اضطراب اور گھبراہٹ صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔ کرس میسن کے مطابق، کمرے کے اندر موجود ماحول میں ایک خاص قسم کا تناؤ پایا جاتا تھا کیونکہ کوئی بھی یہ پیشگوئی نہیں کر سکتا تھا کہ گفتگو کس سمت جائے گی۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات میں بہتری آئی اور برہم نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور سیاسی تدبر کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ انہوں نے نہ صرف اس مشکل آغاز پر قابو پایا بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک ایسا لائحہ عمل طے کیا جس سے دونوں فریقین کو مطمئن کیا جا سکے۔ اس ملاقات کے دوران یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ بڑے عالمی رہنماؤں کے ساتھ ڈیل کرنے کے لیے اعصاب کا مضبوط ہونا اور فوری فیصلے کرنا کتنا ضروری ہوتا ہے۔ کرس میسن کا یہ تجزیہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح پس پردہ ہونے والی سفارتی کوششیں اور ملاقاتیں عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اس پوری صورتحال نے یہ ثابت کر دیا کہ ابتدائی ہچکچاہٹ یا گھبراہٹ کے باوجود اگر حکمت عملی درست ہو تو کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کو کامیابی میں بدلا جا سکتا ہے۔ برہم کی اس کامیابی نے سیاسی حلقوں میں بھی ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جہاں اس ملاقات کے طویل المدتی اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ کرس میسن نے اپنے اس تجزیے میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ مستقبل میں اس قسم کی مزید ملاقاتیں دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات کی نوعیت کو ط طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔