LIVE
Loading Breaking News...

سستی بلیفاروپلاسٹی سرجری کے خطرناک طبی اثرات اور وارننگ

News Image
بیرونی ممالک میں سستے داموں کروائی جانے والی پلکوں کی سرجری کے بعد خواتین کو شدید نوعیت کی طبی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ ڈاکٹروں نے اس قسم کے غیر معیاری اور خطرناک کاسمیٹک پروسیجرز کے خلاف سخت وارننگ جاری کی ہے۔
خوبصورتی کے حصول کے لیے کی جانے والی سرجریز کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی اس کے خطرناک طبی نتائج بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ حال ہی میں طبی ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ بیرون ملک سستے داموں کروائی جانے والی پلکوں کی سرجری، جسے طبی اصطلاح میں بلیفاروپلاسٹی کہا جاتا ہے، کے بعد متعدد خواتین کو شدید نوعیت کی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مریضوں کی جانب سے شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ سرجری کے بعد ان کی آنکھیں پوری طرح بند نہیں ہوتیں اور زخم تاحال کھلے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے انفیکشن اور مستقل بینائی کے ضائع ہونے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ماہر امراض چشم اور پلاسٹک سرجنز کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ کم خرچ کی وجہ سے غیر معیاری کلینکس اور کم تجربہ کار ڈاکٹروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ بیرون ملک سستے پیکجز کے چکر میں مریض یہ بھول جاتے ہیں کہ آنکھیں جسم کا انتہائی نازک ترین حصہ ہیں، جن پر ذرا سی غفلت یا غلط طریقہ کار کے تباہ کن اثرات ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ ہونے والے کیسز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرجری کے دوران ضرورت سے زیادہ جلد یا ٹشو ہٹا دینے کی وجہ سے پپوٹے اپنی طبعی حالت کھو بیٹھتے ہیں، جس کے باعث مریضوں کو سوتے وقت بھی آنکھیں بند کرنے میں شدید تکلیف اور دشواری پیش آتی ہے۔ ڈاکٹروں نے زور دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی کاسمیٹک یا سرجیکل پروسیجر کے لیے صرف اور صرف مستند اور سرٹیفائیڈ ماہرین کا انتخاب کیا جانا چاہیے۔ سستے داموں سرجری کروانے کے شوق میں صحت اور زندگی کو داؤ پر لگانا کسی بھی طور دانشمندی نہیں۔ متاثرہ خواتین اب دوسری اصلاحی سرجریز کے لیے بھی پریشان پھر رہی ہیں کیونکہ خراب ہونے والی ساخت کو دوبارہ درست کرنا انتہائی پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے۔ طبی ماہرین نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ اشتہارات اور سستے وعدوں سے متاثر ہو کر اپنی صحت کے ساتھ خطرناک کھیل نہ کھیلیں اور کسی بھی سرجری سے پہلے مکمل طبی تحقیق ضرور کریں۔