Health
پلکوں کی سستی سرجری: خطرناک انفیکشن کا شکار ہونے والی خواتین کی کہانی
بیرونی ممالک میں سستی پلکوں کی سرجری کروانے والی تین خواتین کو شدید انفیکشن اور پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ خواتین نے خبردار کیا ہے کہ بیرون ملک کم قیمت سرجری کے چکر میں اپنی صحت کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔
خوبصورتی اور جوانی برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات بعض اوقات انسان کے لیے کس قدر عذاب بن سکتے ہیں، اس کی ایک دردناک مثال سامنے آئی ہے۔ حال ہی میں تین خواتین نے اپنی روداد سناتے ہوئے بتایا ہے کہ کس طرح انہوں نے بیرون ملک سستی بلیفروبلاسٹی یعنی پلکوں کی سرجری کروائی، جو بعد میں ان کے لیے شدید طبی مسائل کا سبب بن گئی۔ سستے داموں سرجری کروانے کے شوق میں ان خواتین کو نہ صرف جسمانی تکلیف سے گزرنا پڑا بلکہ ان کی بینائی اور چہرے کی خوبصورتی بھی شدید خطرے میں پڑ گئی۔ متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سرجری کے فوراً بعد انہیں آنکھوں کے گرد شدید جلن، درد اور انفیکشن کی شکایات شروع ہو گئیں۔ انفیکشن اس حد تک بڑھ گیا کہ ان کی پلکیں شدید متاثر ہوئیں اور انہیں خوف کے مارے نیند آنا بھی بند ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سونے سے اس لیے ڈرتی تھیں کہ کہیں صبح اٹھ کر ان کی آنکھیں مزید خراب نہ ہو چکی ہوں۔ ماہرین صحت نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ محض چند پیسے بچانے کے لیے بیرون ملک غیر معیاری طبی سہولیات یا ناتجربہ کار ڈاکٹروں سے اس طرح کے حساس آپریشنز کروانا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ آنکھیں جسم کا انتہائی نازک حصہ ہیں اور ان پر کسی بھی قسم کا سرجیکل تجربہ ماہر اور مستند سرجن سے ہی کروانا چاہیے۔ خواتین نے اب دوسرے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اشتہارات یا سستے پیکیجز کے فریب میں نہ آئیں اور اپنے علاج کے لیے ہمیشہ قابلِ اعتماد اداروں کا انتخاب کریں۔