Business
برطانیہ کی معاشی شرح نمو توقع سے کم رہنے کا انکشاف
تنظیم برائے معاشی تعاون اور ترقی (OECD) نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث توانائی کی بلند قیمتیں برطانوی معیشت کو متاثر کریں گی۔ اس صورتحال کے نتیجے میں اگلے سال برطانیہ کی معاشی نمو توقعات سے کم رہنے کا امکان ہے۔
بین الاقوامی تنظیم برائے معاشی تعاون اور ترقی (او ای سی ڈی) نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ آئندہ سال برطانیہ کی معاشی شرح نمو توقعات کے برعکس کمزور رہے گی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ معیشت پر دباؤ کی ایک بڑی وجہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے وہ چیلنجز ہیں جو طویل عرصے سے معاشی سرگرمیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور دنیا بھر میں شدت اختیار کرتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیاں معاشی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان عوامل کی وجہ سے سپلائی چین متاثر ہونے اور ایندھن کی رسد میں تعطل کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس کے براہ راست اثرات کاروباری لاگت اور پیداوار پر پڑیں گے۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے حالات کی غیر یقینی صورتحال نے توانائی کی عالمی منڈی کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاو دیکھا جا رہا ہے۔ توانائی کی بلند قیمتیں نہ صرف صنعتی پیداوار کو مہنگا کرتی ہیں بلکہ عام صارفین کے لیے بھی مشکلات کا باعث بنتی ہیں کیونکہ گھریلو اور تجارتی بلوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات بھی روایتی معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے حکومتوں اور اداروں کو اضافی مالی وسائل خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔
برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک کے لیے جہاں مہنگائی پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ رہی ہے، توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ معاشی بحالی کے سفر کو سست کر سکتا ہے۔ او ای سی ڈی نے زور دیا ہے کہ برطانوی حکومت اور پالیسی ساز اداروں کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ معیشت کو بڑے دھچکوں سے بچایا جا سکے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر توانائی کے متبادل ذرائع پر فوری توجہ نہ دی گئی اور عالمی منڈی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے پیشگی اقدامات نہ کیے گئے، تو آنے والے مہینوں میں برطانوی عوام اور کاروباری طبقے کو مزید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔