World
اسکاٹ لینڈ میں منشیات سے اموات میں گیارہ فیصد اضافہ
اسکاٹ لینڈ میں گزشتہ برس منشیات کے باعث ہونے والی اموات میں گیارہ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے ایک دہائی میں مرنے والوں کی کل تعداد گیارہ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کے بعد اسکاٹ لینڈ کو یورپ بھر میں منشیات سے سب سے زیادہ اموات کا سامنا کرنے والا ملک قرار دیا جا رہا ہے۔
اسکاٹ لینڈ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ برس منشیات کے استعمال کے باعث ہونے والی اموات میں گیارہ فیصد کا نمایاں اور تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس تازہ ترین اضافے نے ملک میں صحت عامہ کے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، جہاں حکام پہلے ہی اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں۔ اس بڑھتے ہوئے بحران کی وجہ سے گزشتہ ایک دہائی کے دوران مجموعی طور پر منشیات سے ہونے والی اموات کی تعداد گیارہ ہزار سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار نہ صرف انتظامی سطح پر ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ یہ معاشرتی سطح پر ایک بہت بڑا المیہ بھی ہیں۔
اسکاٹ لینڈ کو اس وقت یورپ بھر میں منشیات کی وجہ سے ہونے والی اموات کے تناسب کے لحاظ سے بدترین خطہ مانا جا رہا ہے۔ یورپی ممالک میں منشیات کے تدارک کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے باوجود اسکاٹ لینڈ میں صورتحال مسلسل ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ طبی ماہرین اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے محض پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں ناکافی ہیں، بلکہ بحالی کے مراکز، صحت کی سہولیات اور معاشرتی معاونت کے نظام کو بہتر بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
حکومتی حلقوں اور فلاحی تنظیموں کے درمیان اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران آنے والے برسوں میں مزید کئی زندگیاں نگل سکتا ہے۔ عوامی سطح پر بھی اس بات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ منشیات کے عادی افراد کے علاج کے لیے بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور روایتی سزاؤں کی بجائے علاج و معالجے پر زیادہ توجہ دی جائے۔ اسکاٹ لینڈ کی حکومت کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے جس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔