World
غزہ میں خواتین کے خلاف تشدد اور جبری شادیوں میں اضافہ: اقوام متحدہ کی رپورٹ
اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق غزہ میں خواتین پر تشدد اور کم عمری کی جبری شادیوں میں شدید تیزی دیکھی گئی ہے۔ جنگ زدہ علاقے میں انسانی بحران کے باعث خواتین اور لڑکیوں کو بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (UNFPA) نے اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جاری تنازعے اور جنگ کی وجہ سے غزہ میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں انتہائی تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ محصور اور جنگ زدہ علاقے میں خواتین کو شدید نوعیت کے تحفظ کے مسائل کا سامنا ہے جبکہ روزمرہ کی زندگی اجنبی بن چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تشدد کے ان واقعات نے پہلے سے تباہ حال آبادی بالخصوص خواتین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی شدید روشنی ڈالی گئی ہے کہ غزہ میں کم عمری اور جبری شادیوں کے رجحان میں بھی 'شدید اضافہ' دیکھنے میں آیا ہے۔ معاشی بدحالی، نقل مکانی اور خاندانی نظام کے درہم برہم ہونے کی وجہ سے کم عمر لڑکیوں کی زبردستی شادیاں کی جا رہی ہیں، جو کہ ان کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے رجحانات سے معاشرے پر انتہائی منفی اور دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں نے فریقین سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ طبی اور امدادی سامان کی ترسیل میں حائل رکاوٹیں بھی متاثرہ خواتین کے لیے مشکلات کا بڑا سبب بن رہی ہیں۔ عالمی برادری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس سنگین انسانی المیے کا نوٹس لے اور متاثرہ طبقات کی دادرس کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ اس بحران پر قابو پایا جا سکے۔