World
امریکی سینیٹر کی نیتن یاہو پر شدید تنقید، جھوٹا اور جنگی مجرم قرار
امریکی سینیٹر کرس وان ہولن نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں مسلسل جھوٹ بولنے والا اور جنگی مجرم قرار دیا ہے۔ یہ بیان نیتن یاہو کے دورہ اقوام متحدہ سے بالکل پہلے سامنے آیا ہے جس سے بین الاقوامی سطح پر گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔
امریکی سیاست میں اس وقت ہلچل مچ گئی ہے جب سینیٹر کرس وان ہولن نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہونے والے اس بیان نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ سینیٹر وان ہولن نے واضح طور پر کہا کہ اسرائیلی رہنما اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مسلسل جھوٹ بولتے ہیں اور ان کے اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر کے رہنما مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور غزہ میں جاری انسانی بحران پر غور کرنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ امریکی قانون ساز کی طرف سے اس نوعیت کے سخت بیانات روایتی امریکی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں جہاں اسرائیل پر تنقید کو اب زیادہ کھل کر سامنے لایا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس بیان سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب واشنگٹن میں پالیسی سازوں کے اندر اسرائیل کی جنگی حکمت عملی کے حوالے سے تحفظات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بنجمن نیتن یاہو کا یہ دورہ اقوام متحدہ پہلے ہی سے متنازعہ مانا جا رہا تھا، اور اب سینیٹر وان ہولن کی جانب سے انہیں جنگی مجرم قرار دیے جانے کے بعد حالات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مختلف ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ناگزیر ہے، اور اس قسم کے بیانات اس بحث کو مزید تقویت دیتے ہیں۔