LIVE
Loading Breaking News...

روبوٹک ویکیوم کلینرز پر پابندی: ایف سی سی کا اہم اقدام

News Image
وفاقی مواصلاتی کمیشن (ایف سی سی) نے بیرونی ممالک میں تیار کردہ روبوٹک ویکیوم کلینرز کو قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کر دی ہے۔ ان جدید آلات میں موجود اسمارٹ سسٹمز اور کیمروں کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
امریکہ کے وفاقی مواصلاتی کمیشن (ایف سی سی) نے ایک اہم فیصلے کے تحت رومبا طرز کے روبوٹک ویکیوم کلینرز کو قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دے دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس ادارے کی جانب سے بیرونی ممالک میں تیار کردہ ان جدید روبوٹک آلات کو سرکاری طور پر ممنوعہ فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے، جس پر اب عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ٹیک انڈسٹری میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کیونکہ یہ عام طور پر گھروں میں صفائی کے لیے استعمال ہونے والے عام آلات سمجھے جاتے تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ آلات اب محض صفائی تک محدود نہیں رہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو چکے ہیں۔ ان روبوٹک ویکیومز میں جدید ترین سنسرز، کیمرے، اور نیوی گیشن سسٹمز نصب ہوتے ہیں جو گھر کے اندرونی نقشے تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایف سی سی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ان سسٹمز کے ذریعے حساس ڈیٹا اکٹھا کیے جانے کا خطرہ موجود ہے جو ملکی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے تیار کردہ ان آلات کے سافٹ ویئر اور ڈیٹا اسٹوریج کے حوالے سے سیکیورٹی خدات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ کہیں حساس معلومات غیر متعلقہ سرورز تک تو نہیں پہنچ رہی ہیں۔ اسی تناظر میں امریکی ریگولیٹری اداروں نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے ان پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف مینوفیکچررز کو دھکا لگا ہے بلکہ صارفین بھی تذبذب کا شکار ہیں کہ آیا ان کے اسمارٹ آلات ان کی پرائیویسی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرینِ سایہ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) کے دور میں ہر وہ آلہ جو انٹرنیٹ سے منسلک ہوتا ہے اور ماحول کا ڈیٹا ریکارڈ کرتا ہے، وہ ممکنہ طور پر جاسوسی یا ڈیٹا کی چوری کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے اثرات بین الاقوامی مارکیٹ اور دیگر ممالک کی پالیسیوں پر بھی پڑنے کا قوی امکان ہے، جہاں حکومتیں اسمارٹ ڈیوائسز کے حوالے سے مزید سخت قوانین متعارف کروا سکتی ہیں۔