LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی حراست میں فلسطینی بچوں کی مشکلات اور والدین کا درد

News Image
اسرائیلی حراست کے دوران فلسطینی بچوں کو شدید نفسیاتی اور جسمانی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رہائی کے بعد بھی والدین اپنے بچوں کی یادوں اور ان کے کمروں کی دیکھ بھال میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
فداہ زلبانی ہر روز اپنے سترہ سالہ بیٹے محمد کے کمرے میں جاتی ہیں، اس کا بستر ٹھیک کرتی ہیں اور اس کے وہ کپڑے ترتیب سے رکھتی ہیں جنہیں اب تک ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا۔ محمد اس وقت اسرائیلی حراست میں قید ہے اور ماں کا یہ روزانہ کا معمول اس کے بیٹے کی جدائی کے درد کو تازہ کر دیتا ہے۔ دنیا بھر میں بچوں کے حقوق کی باتیں کی جاتی ہیں لیکن تنازعات کی زد میں بالخصوص مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے بچوں کی حقیقت اس سے بالکل مختلف اور دردناک ہے۔ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی بچوں کو جن مشکلات اور کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ حراست کے دوران ان کم سن بچوں کو نہ صرف قانونی بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے بلکہ ان پر جسمانی اور ذہنی تشدد کے الزامات بھی سامنے آتے ہیں۔ رہائی پانے کے بعد بھی ان بچوں کے لیے معمول کی زندگی کی طرف لوٹنا انتہائی مشکل ہوتا ہے کیونکہ جیل کے اندونی خوف اور سزائیں ان کے ذہنوں پر گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔ والدین کے لیے اپنے بچوں کو اس حال میں دیکھنا یا ان کا انتظار کرنا ایک ایسا کرب ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید بڑھتا جاتا ہے۔ فداہ زلبانی جیسی ہزاروں مائیں اپنے جگر گوشوں کے منتظر ہیں اور ان کے کمرے ان کی غیر موجودگی میں خاموشی سے گواہی دے رہے ہیں کہ جنگ اور تنازعات کا سب سے بڑا شکار ہمیشہ معصوم بچے ہی بنتے ہیں۔