LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا نیا امریکی ڈرون سودا اور سفارتی تناظر

News Image
پاکستان نے ڈرون ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے ایک ایسی کمپنی کا رخ کیا ہے جو پہلے ہی بھارت کو اپنے مصنوعات فروخت کر رہی ہے۔ اس کمپنی کے شریک بانی ایک سابق اسرائیلی فوجی ہیں جبکہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا۔
پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر دفاعی اور تکنیکی تعاون کے حصول کے لیے نئی کوششیں جاری ہیں، جن میں حالیہ دنوں میں ایک اہم امریکی ڈرون فرم کے ساتھ معاملات زیر بحث لائے گئے ہیں۔ دلچسپ اور پیچیدہ امر یہ ہے کہ جس ڈرون فرم پر یہ داؤ لگایا جا رہا ہے، وہ پہلے ہی روایتی حریف بھارت کو بھی اپنے ڈرون اور دفاعی آلات فروخت کر رہی ہے۔ اس صورتحال نے سفارتی اور دفاعی حلقوں میں کئی قسم کے سوالات کو جنم دیا ہے۔ اس معاملے کا ایک اور حساس پہلو اس کمپنی کی اندرونی ساخت اور قیادت سے جڑا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس ڈرون کمپنی کے شریک بانیوں میں ایک شخص سابق اسرائیلی فوجی بھی شامل ہے۔ چونکہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں اور پاکستان باضابطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، اس لیے اس نوعیت کے کاروباری اور دفاعی روابط کو انتہائی احتیاط اور گہری جانچ پڑتال کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید دور میں دفاعی ٹیکنالوجی کی خریداری کے معاملات اب محض دو طرفہ سفارت کاری تک محدود نہیں رہے بلکہ اس میں گلوبل کارپوریشنز اور نجی کمپنیوں کا عمل دخل بڑھ چکا ہے۔ پاکستان کی پالیسی ساز اداروں کو ایک طرف جدید فوجی ساز و سامان کی شدید ضرورت ہے تو دوسری طرف انہیں ایسے پیچیدہ جغرافیائی اور سیاسی حقائق کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جو نظریاتی اور سفارتی اصولوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ حالیہ پیش رفت کے بعد یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت پاکستان اور اس کے دفاعی ادارے اس امریکی فرم کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس نہج پر آگے بڑھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، اندرون ملک اور بین الاقوامی سطح پر اس فیصلے کے طویل المدتی اثرات کیا ہوں گے، اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہی لگایا جا سکے گا جب اس معاہدے کی مزید تفصیلات اور شرائط سامنے آئیں گی۔