Politics
پاکستان میں پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ کے پیش نظر سکیورٹی سخت
پاکستان تحریک انصاف کے مجوزہ مارچ کے تناظر میں حکومت نے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کرتے ہوئے پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ دوسری طرف حکومتی شخصیات نے خبردار کیا ہے کہ احتجاجی سیاست کو کسی بھی صورت قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے مجوزہ احتجاجی مارچ اور جلسے کے پیش نظر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پنجاب حکومت نے راولپنڈی سمیت تین دیگر اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی کی باضابطہ درخواست کی ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جو پانچ اکتوبر تک نافذ العمل رہے گی۔ اس پابندی کے تحت ہر قسم کے عوامی اجتماعات، دھرنوں اور ریلیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے تاکہ شہر کا امن تباہ نہ ہو۔ سرکاری ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائیں اور سرکاری و نجی املاک کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
دوسری جانب وفاقی اور صوبائی وزراء نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو خبردار کیا ہے کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لینے سے گریز کریں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاج کے نام پر ریاست کو بلیک میل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کسی بھی غیر قانونی اقدام کا سختی سے مقابلہ کیا جائے گا۔ حکومتی عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ سیاست کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں لیکن بند گلی کی طرف بڑھنے والوں کو قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔
ادھر پی ٹی آئی کی قیادت نے بھی سیاسی صورتحال اور مذاکرات کے امکانات پر مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کا عندیہ دیا ہے جس سے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے اس ماحول میں اگر دونوں فریقین نے لچک کا مظاہرہ نہ کیا تو ملک میں سیاسی محاذ آرائی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس سے معاشی اور سماجی استحکام کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔