LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ میں ٹرمپ کا خطاب: دھمکیاں اور دعوے

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنے روایتی انداز میں دعوے، دھمکیوں اور طنز کے وار کیے۔ اس خطاب کے دوران ایران کے ساتھ کشیدگی اور مش مشرقِ وسطیٰ کے امور پر بھی عالمی سطح پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے مخصوص اور جارحانہ انداز میں سیاسی مخالفین اور عالمی رہنماؤں کو مخاطب کیا۔ ان کے اس خطاب میں کامیابیوں کے دعوے، مخالفین کے لیے سخت دھمکیاں اور طنزیہ جملے نمایاں طور پر شامل تھے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ خطاب عالمی سفارت کاری میں ایک نئے تناؤ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ انہوں نے کثیرالجہتی تعاون کے بجائے یکطرفہ فیصلوں اور طاقت کے استعمال پر زیادہ زور دیا۔ دوسری جانب، اس خطاب کے فوراً بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جون کے بعد پہلی بار براہ راست مذاکرات منعقد ہوئے۔ نیویارک میں ہونے والی یہ بات چیت تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہی جسے فریقین کی جانب سے انتہائی نتیجہ خیز قرار دیا گیا۔ امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف 'تباہی' کی دھمکی کے باوجود دونوں ممالک کے مابین سفارتی سطح پر رابطوں کا بحال ہونا عالمی امن کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اگرچہ ایرانی حکام نے شرائط میں نرمی کی تردید کی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پہلے روز کے اجلاس میں دنیا بھر سے آنے والے سربراہان مملکت نے مختلف اہم عالمی امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سی این این اور دیگر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سال کے اجلاس کا محور بنیادی طور پر بین الاقوامی سکیورٹی، اقتصادی چیلنجز اور علاقائی تنازعات رہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی تقریر کے بعد عالمی رہنماؤں کے بیانات میں مزید سختی آسکتی ہے، جس سے آنے والے دنوں میں سفارتی محاذ پر مزید گرمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔