LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ شی جن پنگ ملاقات، چین کی خود کفالت اور عالمی تجارت

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات عالمی تجارت اور سفارت کاری کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس ملاقات سے قبل چین کی معاشی خود کفالت کی پالیسی نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے روایتی انداز کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔
واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطح کی ملاقات نے بین الاقوامی میڈیا اور سیاسی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے چینی صدر کے استقبال کے لیے شاندار انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں روایتی پروٹوکول کے ساتھ ساتھ ایک بڑے سیاسی تماشے کے عناصر بھی شامل ہیں۔ تاہم، اس ظاہری شان و شوکت کے پیچھے دونوں اقتصادی سپر پاورز کے درمیان انتہائی پیچیدہ اور کشیدہ امور پر تبادلہ خیال جاری ہے، جن میں سب سے نمایاں پہلو چین کی معاشی اور تکنیکی خود کفالت ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیه برسوں میں چین نے جس تیزی سے اپنے ٹیکنالوجی کے شعبے، خاص طور پر مصنوعی ذہانت (AI)، سیمی کنڈکٹرز اور اہم معدنیات میں خود کفالت حاصل کی ہے، اس نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں بیجنگ کی پوزیشن کو بہت مستحکم کر دیا ہے۔ ماضی میں واشنگٹن کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں یا ٹیرف کے دباؤ کے سامنے چین کو بعض اوقات دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن اب چین کا اندرونی معاشی ڈھانچہ بیرونی دباؤ کے خلاف زیادہ لچکدار ہو چکا ہے۔ اس تبدیلی نے دونوں ممالک کے مابین سفارتی اور تجارتی حساب کتاب کے روایتی طریقوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔اس سربراہی اجلاس کے ایجنڈے میں دو طرفہ تجارت کے فروغ اور استحکام کے علاوہ متعدد دیگر عالمی اور علاقائی موضوعات بھی شامل ہیں۔ ان میں مصنوعی ذہانت کے ضابطے، تجارتی ٹیرف میں کمی یا اضافہ، اور ایران سمیت دیگر حساس جغرافیائی سیاسی تنازعات نمایاں ترین ہیں۔ دونوں رہنما اگرچہ بعض شعبوں میں تعاون کے راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن بنیادی ڈھانچے کے تضادات اور تکنیکی بالادستی کی جنگ اب بھی دونوں ملکوں کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر یہ ملاقات اس بات کا تعین کرے گی کہ آنے والے دنوں میں عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی دنیا کا رخ کس طرف ہوگا۔