LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں پیٹرول کی قیمت ایک ہزار روپے تک جانے کا خدشہ

News Image
عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ اور معاشی دباؤ کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ ملکی معاشی صورتحال اور عالمی منڈی کے رجحانات آنے والے دنوں میں مہنگائی کا نیا طوفان لا سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر ایندھن کے جاری بحران اور معاشی دباؤ کے پیش نظر یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ پاکستان میں پیٹرول کی فی لٹر قیمت آنے والے وقتوں میں ایک ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ براہ راست ملکی مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی ضرور کی گئی ہے، تاہم طویل المدتی بنیادوں پر یہ ریلیف عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور مقامی تجزیہ کاروں کے مطابق، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں کی وجہ سے تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر سکتی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بیشتر حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتے ہیں، کے لیے عالمی منڈی کے یہ جھٹکے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ اگر عالمی مارکیٹ میں ایندھن کے نرخ اسی رفتار سے بڑھتے رہے تو پاکستان میں بھی اس کا اثر پیٹرول پمپس پر قیمتوں کی صورت میں نمایاں نظر آئے گا۔ دوسری جانب، مقامی سطح پر حکومت کو مالیاتی خسارے اور عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط کے تحت ٹیکسوں اور لیویز میں ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑتی ہے، جس سے عام صارف کے لیے ریلیف کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور یوٹیلیٹی بلز کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر پیٹرول کی قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوس اور دیگر تمام ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے فی الحال قیمتوں میں معمولی ردوبدل کرکے صارفین کو ریلیف دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات ناپائیدار ہیں۔ ملک کو اس ممکنہ معاشی طوفان سے نمٹنے کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع اور طویل المدتی مالیاتی اصلاحات کی طرف فوری توجہ دینا ہوگی، ورنہ عام آدمی کے لیے زندگی مزید اجیرن ہونے کا خطرہ موجود ہے۔