LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کی دھمکی پر ممالک کا ایران کے لیے پروازیں منسوخ کرنے کا فیصلہ

News Image
امریکہ کی جانب سے ایرانی ایئرلائنز کو بند کرنے کی سخت دھمکی کے بعد عالمی سطح پر متعدد ممالک نے ایران کے لیے اپنی پروازیں معطل یا منسوخ کر دی ہیں۔ اس صورتحال کے باوجود بعض بین الاقوامی پروازیں جاری رہنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جن سے خطے میں فضائی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایرانی ایئرلائنز کو مکمل طور پر بند کرنے کی سخت دھمکی کے بعد بین الاقوامی سطح پر فضائی آپریشنز میں بڑی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ مختلف ممالک اور غیر ملکی ایئرلائنز نے حفاظتی اقدامات اور پابندیوں کے خدشات کے پیش نظر ایران کے لیے اپنی پروازیں منسوخ یا عارضی طور پر معطل کرنا شروع کر دی ہیں۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی سفارتی حلقوں میں بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ فنانشل ٹائمز اور دیگر میڈیا ذرائع کے مطابق اس فیصلے سے ایرانی اور بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے درمیان کاروباری تعلقات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب فلیٹ ٹریکرز اور کاروباری خبر رساں اداروں کے مطابق ان تمام امریکی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود کچھ پروازیں اب بھی جاری ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ایرانی پرواز تمام تر امریکی دھمکیوں کے باوجود کامیابی کے ساتھ چین میں لینڈ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اس کے علاوہ ایران ایئر کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ استنبول، باکو اور نجف کے لیے پروازیں ت حال معمول کے مطابق جاری ہیں اور مسافروں کو اپنی شیڈول سروسز فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ بعض ممالک اور ایئرلائنز اب بھی ان تند و تیز پابندیوں کے درمیان راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم تمام فضائی راستے کھلے نہیں ہیں اور علاقائی سطح پر بھی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق ایران نے خود بھی بغداد اور مسقط کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل یا محدود کر دی ہیں۔ یہ تمام تبدیلیاں ایک ایسے نازک موڑ پر رونما ہو رہی ہیں جب ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے اقوام متحدہ میں اہم خطاب کی تیاریاں اور دیگر سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایرانی ایوی ایشن سیکٹر کو زمین بوس کرنے اور پابندیوں کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کے عزم نے خطے کی معیشت اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مجموعی طور پر اس تنازع نے مسافروں اور ایئرلائن آپریٹرز دونوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ بین الاقوامی فضائی سفر کے قوانین اور سیاسی کشیدگی کے اس امتزاج کی وجہ سے آنے والے دنوں میں مزید پروازوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ آئی تو دنیا بھر میں ہوابازی کی صنعت کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے عام مسافروں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو گا۔