Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم، ایران کا آبنای ہرمز کھولنے کا اشارہ
ایران کی جانب سے امریکی دباؤ میں کمی کی صورت میں آبنای ہرمز کو سات دن کے اندر کھولنے کے اشارے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس پیش رفت سے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی لائنز بحال ہونے اور مہنگائی میں کمی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اس وقت نمایاں کمی دیکھنے میں آئی جب ایران کی طرف سے آبنای ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے مثبت اشارے سامنے آئے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے فوجی دباؤ میں کمی لائی جائے اور بحری ناکہ بندی ختم کر دی جائے تو آبنای ہرمز کو محض سات دن کے اندر تجارتی آمدورفت کے لیے بحال کیا جا سکتا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے باعث توانائی کی سپلائی اور عالمی تجارت کو شدید خدشات لاحق تھے۔ایرانی حکام بالخصوص وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس ضمن میں کچھ اہم شرائط بھی پیش کی ہیں جنہیں سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ان شرائط کو باضابطہ طور پر متعلقہ فریقین کے سامنے رکھ دیا گیا ہے جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہے۔ اس تمام صورتحال نے عالمی سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین کو ایک بڑی ریلیف کی امید دلائی ہے کیونکہ آبنای ہرمز دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم ترین سمندری راستہ ہے۔اس پیش رفت کے ساتھ ہی ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدہ تعلقات میں نرمی کے آثار نمایاں ہوئے ہیں اور ایران نے مذاکرات کے میز پر دوبارہ بیٹھنے کی اپنی آمادگی کا اظہار بھی کیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر فریقین کے درمیان یہ بات چیت کامیاب رہتی ہے اور آبنای ہرمز مکمل طور پر کھل جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں خام تیل کی عالمی قیمتوں میں مزید استحکام آئے گا، جس سے مہنگائی کے شکار عالمی عوام کو بڑی حد تک ریلیف ملنے کی توقع ہے۔