World
تارکین وطن مخالف کارکن کی ویڈیو پر پولیس کی تحقیقات، ڈینیل تھامس کا معاملہ
برطانوی پولیس نے تارکین وطن کے خلاف سرگرم کارکن ڈینیل تھامس کی لائیو سٹریم کی جانے والی ویڈیو کا نوٹس لے لیا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موصوف نے مبینہ طور پر ایک ربڑ کی کشتی کو چاقو سے کاٹ ڈالا۔
برطانوی حکام نے ایک معروف تارکین وطن مخالف کارکن کی طرف سے سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی اس متنازعہ ویڈیو کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں جس میں مبینہ طور پر اسے ایک ربڑ کی کشتی کو تیز دھار آلے یا چاقو سے کاٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس واقعے نے ملک بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فوری کارروائی کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔
اس واقعے کے مرکزی کردار ڈینیل تھامس ہیں، جنہیں ان کے حامی اور سوشل میڈیا فالوورز 'دینی ٹومو' کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ موصوف نے اس مبینہ واقعے کی لائیو سٹریمنگ کی تھی جس کی ریکارڈنگ تیزی سے مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر وائرل ہو گئی۔ ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد عام شہریوں اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اس عمل کو قانون ہاتھ میں لینے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس تمام مواد اور ڈیجیٹل شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ اس ویڈیو میں جو کچھ دکھایا گیا ہے اس کی قانونی حیثیت کیا ہے اور آیا اس پر باضابطہ مقدمہ درج کر کے گرفتاری عمل میں لائی جانی چاہیے۔ قانون کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات معاشرتی امن کو خراب کر سکتے ہیں اور پبلک آرڈر کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں برطانیہ کے اندر تارکین وطن کے مسائل پر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور مختلف سیاسی و سماجی گروہ اس حساس موضوع پر کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے سے گریز کریں جبکہ اس معاملے کی حتمی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی اقدامات متوقع ہیں۔