World
اسرائیل فرانس تنازع: نیتنیاهو کا میکرون کے بیان پر سخت ردعمل
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاهو نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں انہوں نے مبینہ طور پر مقبوضہ علاقے میں حماس کی سرگرمیوں کو کم اہم ظاہر کیا۔ نیتنیاهو نے اقوام متحدہ کی تقریر کے تناظر میں اس مؤقف کو نامناسب اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاهو نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے اقوام متحدہ میں دیے گئے اس بیان پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال اور وہاں حماس کی سرگرمیوں کا ذکر کیا تھا۔ اسرائیلی رہنما کے مطابق فرانسیسی صدر کے یہ ریمارکس حقیقت کے منافی اور انتہائی نامناسب ہیں، جنہیں کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نیتنیاهو کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کمزور پڑتی ہے۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازع اور سکیورٹی خدشات پر شدید بحث جاری ہے۔ فرانسیسی صدر کے دفتر سے اس معاملے پر تاحال کوئی تفصیلی جوابی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سفارتی حلقوں میں اس لفظی جنگ کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور فرانس کے درمیان سفارتی تعلقات میں اس واقعے کے بعد مزید سرد مہری آ سکتی ہے، کیونکہ اسرائیل کسی بھی ایسے بیان کو برداشت نہیں کرتا جو اس کے بقول اس کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہو یا حماس کی فعالیت کو کم کر کے پیش کرتا ہو۔ دونوں ممالک کے درمیان اس محاذ آرائی نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں کے مستقبل اور سکیورٹی کے امور پر مغربی ممالک اور اسرائیل کے مؤقف میں کس قدر گہرا تضاد پایا جاتا ہے۔