LIVE
Loading Breaking News...

فٹبالر جیس کارٹر توہین اور نسل پرستی کیس کی سماعت

News Image
برطانوی عدالت میں انگلینڈ کی فٹبالر جیس کارٹر کو نسل پرستانہ پیغام بھیجنے کے مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔ ملزم آریان اگروال نے عدالت میں الزامات کی تردید کرتے ہوئے تردیدی موقف اپنایا ہے۔
برطانیہ کی ایک عدالت میں انگلینڈ کی معروف خاتون فٹبالر جیس کارٹر کو مبینہ طور پر نسل پرستانہ اور توہین آمیز پیغامات بھیجنے کے معاملے کی سماعت کی گئی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ آریان اگروال نامی نو عمر ملزم نے فٹبالر جیس کارٹر کو سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع سے رابطہ کر کے انتہائی نامناسب الفاظ کہے، جن میں انہیں پہلے احمق اور بدصورت قرار دیا گیا اور بعد ازاں ایک نسل پرستانہ گالی کا استعمال بھی کیا گیا۔ یہ واقعہ کھیلوں کی دنیا میں کھلاڑیوں کو آن لائن ہراسانی اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے واقعات کی کڑی سمجھا جا رہا ہے۔ عدالت میں ہونے والی اس کارروائی کے دوران ملزم آریان اگروال نے اپنے اوپر عائد کردہ تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ ملزم کے وکلاء اور اس کی جانب سے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس نے ایسا کوئی نسل پرستانہ یا توہین آمیز رویہ اختیار نہیں کیا اور نہ ہی وہ اس مبینہ جرم میں ملوث ہے۔ برطانوی عدالت اب اس کیس کے تمام شواہد اور ڈیجیٹل ریکارڈ کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ حقیقت کا تعین کیا جا سکے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ واضح رہے کہ حالیہ چند برسوں کے دوران برطانوی اور بین الاقوامی فٹبال میں کھلاڑیوں خصوصاً خواتین کھلاڑیوں کو آن لائن نسل پرستانہ تنقید اور بدسلوکی کا نشانہ بنانے کے خلاف سخت قوانین بنائے گئے ہیں۔ فٹبال ایسوسی ایشنز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سوشل میڈیا پر کھلاڑیوں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے تاکہ کھیل کے میدانوں اور ڈیجیٹل دنیا کو اس قسم کے تعصب سے پاک رکھا جا سکے۔ اس مقدمے کا فیصلہ آنے والے دنوں میں مزید قانونی کارروائی کے بعد سنایا جائے گا۔