LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کی سعودی عرب کو فوجی مدد، جنگی طیاروں میں ایندھن کی فراہمی

News Image
برطانیہ نے یمن کے حوثی گروپ کے ساتھ جاری لڑائی کے دوران سعودی عرب کے جنگی طیاروں میں دوبارہ ایندھن بھرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنانا اور اتحادی ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
برطانیہ نے ایک اہم دفاعی فیصلے کے تحت یمن کے ایران समर्थित حوثی گروپ کے خلاف جاری کشیدگی اور لڑائی کے دوران سعودی عرب کے جنگی طیاروں میں دوبارہ ایندھن (فولڈنگ اینڈ ری فیولنگ) فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ قدم خطے میں سکیورٹی کی بڑھتی ہوئی صورتحال اور حوثیوں کی جانب سے حملوں کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے تاکہ اتحادی افواج کی operacional صلاحیتوں کو برقرار رکھا جا سکے۔ برطانوی حکومت کا ماننا ہے کہ اس تعاون سے خلیجی خطے میں استحکام لانے اور اہم دفاعی تنصیبات کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب، فرانس نے بھی اس سکیورٹی اتحاد میں اہم کردار ادا کرنے کا تہیہ کیا ہے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق پیرس حکومت خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے حالیہ مہینوں میں تیل کی تنصیبات اور شپنگ روٹس کو نشانہ بنانے کے بعد مغربی ممالک نے خلیجی اتحادیوں بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عالمی توانائی کی سپلائی لائنز کو محفوظ رکھا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت یمنی تنازع میں بین الاقوامی طاقتوں کی براہ راست یا بالواسطہ شمولیت کو ظاہر کرتی ہے، جو خطے کے طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ جہاں ایک طرف حوثی گروپ کی جانب سے خطے میں امریکی اور مغربی مفادات کو چیلنج کیا جا رہا ہے، وہیں برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک اپنے دیرینہ اتحادیوں کے دفاع کے لیے میدان میں آ چکے ہیں۔ اس صورتحال سے خلیجی خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم اتحادی ممالک کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات صرف دفاعی نوعیت کے ہیں۔