LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ غربت کا خاتمہ 2030 ہدف اور زمینی حقائق

News Image
اقوام متحدہ کی جانب سے 2030 تک غربت کے خاتمے کے ہدف کو تیز کرنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن دنیا بھر کے عوام کا کہنا ہے کہ کروڑوں افراد اب بھی شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے چیلنجز اس ہدف کے حصول میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے یہ عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ دنیا بھر سے غربت کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ مقررہ مدت یعنی 2030 تک اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔ تاہم، اس بلند بانگ دعوے کے برعکس دنیا کے مختلف خطوں سے سامنے آنے والے زمینی حقائق انتہائی تشویشناک ہیں۔ عالمی سطح پر کروڑوں افراد آج بھی بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں اور شدید مالی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ معاشی ناہمواری اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ دنیا بھر کے عام شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے طوفان اور ملازمتوں کے کم ہوتے ہوئے مواقع نے غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ اقوام متحدہ کے طے کردہ اہداف کے مطابق غربت کے خاتمے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو خصوصی امداد اور مالی تعاون کی ضرورت ہے، لیکن عملی میدان میں یہ امداد ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ بہت سے ممالک میں سیاسی عدم استحکام اور بدتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال نے ترقیاتی منصوبوں کو شدید متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی رونما نہیں ہو سکی۔ اس صورتحال کے پیش نظر سماجی ماہرین اور اقتصادی تجزیہ کاروں نے زور دیا ہے کہ عالمی رہنماؤں کو محض اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اور موثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ جب تک نچلے طبقے تک براہ راست فلاحی فوائد نہیں پہنچائے جاتے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں کیے جاتے، اس وقت تک 2030 کے اہداف کا حصول ایک ناممکن خواب ہی رہے گا۔ اقوام متحدہ کو اپنے لائحہ عمل کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا تاکہ غریب ترین طبقے کو اس دلدل سے نکالا جا سکے۔