LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں اور چیلنجز

News Image
نیویارک میں جاری حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے بعد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ہفتے کسی بڑے سمجھوتے کا امکان بہت کم ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بنیادی اختلافات تحال ناقابلِ حل اور برقرار ہیں۔
نیویارک میں ہونے والی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا امریکہ اور ایران کے مابین دیرینہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے کوئی نیا سفارتی بریک تھرو ممکن ہے؟ عالمی امور کے ماہرین کے مطابق، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر رابطے تو بحال رہتے ہیں لیکن اس ہفتے کسی بڑے یا حتمی معاہدے کی توقع کرنا قبل از وقت ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے بعض بنیادی نوعیت کے اسٹریٹجک اختلافات چلے آ رہے ہیں جن پر دونوں فریقین اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نظر نہیں آتے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کا شدید فقدان ہے جو کسی بھی سنجیدہ مذاکراتی عمل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ایران کو اپنی خطے کی پالیسیوں اور جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت شرائط ماننا ہوں گی، جبکہ دوسری طرف تہران کا موقف ہے کہ پابندیوں کا خاتمہ اور خودمختاری کا احترام کیے بغیر کوئی بھی پائیدار سمجھوتہ ممکن نہیں۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ عارضی کشیدگی کم کرنے اور تناؤ کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بیک چینل مذاکرات اور سفارتی چینلز کا استعمال جاری رہتا ہے، تاہم موجودہ زمینی حقائق کے پیشِ نظر کوئی فوری اور حیرت انگیز سفارتی پیشرفت دکھائی نہیں دیتی۔ دنیا بھر کے سیاسی مبصرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ کا امن بڑی حد تک واشنگٹن اور تہران کے باہمی تعلقات کی بہتری یا خرابی سے جڑا ہوا ہے۔