LIVE
Loading Breaking News...

بین الاقوامی آبنائوں پر فیس، آئی ایم او کا سخت موقف

News Image
عالمی بحری تنظیم (آئی ایم او) کے سربراہ آرسینیو ڈومینگز کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کے لیے بین الاقوامی آبنائوں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنا قانون کے خلاف ہے۔ انہوں نے عالمی تجارت کی آزادی اور بحری سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے قوانین کی سختی سے پابندی پر زور دیا ہے۔
عالمی بحری تنظیم (انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن) کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینگز نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ملک کے پاس بین الاقوامی آبنائوں سے گزرنے والے تجارتی اور بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت سمندری گزرگاہیں تمام ممالک کے جہازوں کے لیے آزادانہ نقل و حرکت کی حامل ہیں اور ان پر کسی قسم کا ٹیکس یا فیس عائد نہیں کی جا سکتی۔ آرسینیو ڈومینگز کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں سمندری راستوں اور آبنائوں کے استعمال کے حوالے سے مختلف ممالک کے مابین مباحثے جاری ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی تجارت کا تسلسل اور معاشی استحکام اس بات پر منحصر ہے کہ بین الاقوامی گزرگاہیں بلا رکاوٹ اور منصفانہ بنیادوں پر استعمال ہوتی رہیں۔ فیسوں کے نفاذ سے نہ صرف جہاز رانی کی صنعت متاثر ہوگی بلکہ اشیاء کی ترسیل کی لاگت میں بھی ہوشربا اضافہ ہو جائے گا۔ عالمی بحری تنظیم کے سربراہ نے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی میری ٹائم قوانین کا احترام کریں اور ایسی کسی بھی یکطرفہ کارروائی سے گریز کریں جو سمندری تجارت کے عالمی نظام کو نقصان پہنچا سکتی ہو۔ تنظیم کا موقف ہے کہ عالمی گزرگاہوں کو کسی بھی قسم کے سیاسی یا مالی تنازعات سے بالاتر رکھا جانا چاہیے تاکہ دنیا بھر میں سپلائی چین متاثر نہ ہو۔