World
شام کے صدر احمد الشراع کا اسرائیل اور جولان سے متعلق بیان
شام کے صدر احمد الشراع نے اسرائیل کی جانب سے ملکی خودمختاری کی خلاف ورزیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر امریکہ کو اسرائیل کو زمین دینی ہے تو وہ مقبوضہ جولان کے بجائے نیو جرسی دے۔
شام کے صدر احمد الشراع نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے شام کی خودمختاری کی مسلسل خلاف ورزیوں پر کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے خطے میں جاری کشیدگی اور اسرائیلی اقدامات کے حوالے سے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شامی سرزمین پر کسی بھی قسم کی جارحیت ناقابل قبول ہے اور شام کے عوام اپنی ارضی سالمیت کا دفاع کرنا اچھی طرح جانتے ہیں۔ گفتگو کے دوران صدر الشراع نے سابق امریکی صدر اور موجودہ سیاسی شخصیات کے فیصلوں پر بھی طنز کیا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر امریکہ کو اسرائیل کے لیے زمین کا تحفہ دینا ہی ہے تو وہ شام کی مقبوضہ جولان کی پہاڑیوں کے بجائے اپنے ہی ملک کے ریاست نیو جرسی کا کوئی حصہ اسرائیل کو دے دے۔ ان کے اس بیان نے سفارتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھوٹی ہے اور دنیا بھر میں اس پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ شام کی نئی قیادت ملک کے اندرونی معاملات کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔ شام میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد سے ملک کی خارجہ پالیسی اور خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے یہ ایک انتہائی اہم اور واضح بیان تصور کیا جا رہا ہے، جس سے خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔