World
مسعود پزشکیان کا ٹرمپ کو جواب، ایران کبھی سر نہیں جھکائے گا
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران کبھی بھی دباؤ کے آگے جھکے گا نہیں۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ایران کو کبھی بھی دباؤ کے ذریعے زیر نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا یہ پرعزم بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی مبینہ تباہی کی دھمکیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں تہران نے اپنی خودمختاری پر کسی بھی قسم کے سمجھوتتے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ایرانی صدر نے عالمی فورم پر اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے اور وہ غنڈہ گردی یا دھمکیوں کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی حساس صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ مسعود پزشکیان نے عالمی برادری کو یہ باور کرایا کہ ایران خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے لیکن اس کے باوجود ملک کے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ تہران ہمیشہ سے امن کا خواہاں رہا ہے لیکن امن کی اس خواہش کو کمزوری یا ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہرگز نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ایرانی قیادت کی جانب سے اس دوٹوک مؤقف کے بعد عالمی سطح پر سفارتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے، اور ماہرین اس صورتحال کو مشرق وسطیٰ کے نازک امن کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ اس دوران عالمی رہنماؤں کی جانب سے دونوں فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیلیں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔