LIVE
Loading Breaking News...

بھارت کا او آئی سی کشمیر بیان پر سخت ردعمل اور تنقید

News Image
بھارت نے او آئی سی کی جانب سے کشمیر پر دیے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے نام نہاد قرار دیا ہے۔ نئی دہلی نے اسلامی تعاون تنظیم پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے حق میں پراپیگنڈا کرنا بند کرے۔
نئی دہلی نے آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) کی جانب سے جموں و کشمیر کے تنازع پر جاری کیے جانے والے بیان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ اور سفارتی حلقوں کی جانب سے جاری کردہ ردعمل میں اس مسلم بلاک کو 'نام نہاد' قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ تنظیم کو بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کے سیاسی پراپیگنڈے کا آلہ کار بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسلامی تعاون تنظیم کے رابطہ گروپ کا ایک اجلاس منعقد کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر منعقد ہونے والے اس اجلاس میں او آئی سی کے رابطہ گروپ نے بھارت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری لائے اور تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کرے۔ اس اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی شرکت کی اور جموں و کشمیر کے تنازع کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔ دوسری جانب آذربایجان کے وزیر خارجہ جیہون باراموف سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی او آئی سی رابطہ گروپ کے اجلاس میں خطاب کیا اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ تاہم، بھارت نے ان تمام مطالبات اور بیانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹیم انگ تھا، ہے اور رہے گا۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ او آئی سی جیسی بڑی تنظیم کو اپنے پلیٹ فارم کو کسی ایک ملک کے مفادات اور دو طرفہ ایجنڈے کے لیے استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے۔ بھارتی حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان خود اندرونی طور پر انسانی حقوق کے سنگین مسائل سے دوچار ہے اور اسے دوسرے ممالک پر انگلیاں اٹھانے سے پہلے اپنے اندرونی حالات کا جائزہ لینا چاہیے۔ سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے دوران کشمیر کے مسئلے پر ہونے والی یہ لفظی جنگ اور سفارتی محاذ آرائی خطے کے تنازعات کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، جہاں دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔