LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ میں موسمیاتی فันڈز اور پاکستان کے مالیاتی چیلنجز

News Image
پاکستان کے وفاقی وزیر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک کو درپیش شدید موسمیاتی خطرات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی فنڈز کی فراہمی کے عمل کو تیز کیا جائے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اہم امور پر گفتگو کی گئی ہے۔ اجلاس میں ملک کو درپیش شدید موسمیاتی خطرات کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا اور عالمی برادری پر واضح کیا گیا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بری طرح متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس موقع پر مطالبہ کیا گیا کہ متاثرہ ممالک کے لیے عالمی سطح پر موسمیاتی فنانسنگ کے عمل کو مزید تیز اور آسان بنایا جائے تاکہ بروقت اقدامات ممکن ہو سکیں۔ خطاب کے دوران معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے توانائی کی سلامتی کو کلیدی حیثیت قرار دیا گیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ معاشی لچک پیدا کرنے اور صنعتی ترقی کو جاری رکھنے کے لیے توانائی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل اثاثوں کی ریگولیشن اور مالیاتی شمولیت میں مصنوعی ذہانت (AI) کے کردار پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ جدید ٹیکنالوجی کو معیشت کی بہتری کے لیے بروئے کار لایا جا سکے۔ حالیہ بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے ان مطالبات کا مقصد عالمی سطح پر توجہ مبذول کرانا ہے تاکہ ترقی پذیر معیشتوں کو درپیش ماحولیاتی اور مالیاتی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر تعاون حاصل ہو سکے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے تنہا نہیں لڑا جا سکتا، اس کے لیے عالمی مالیاتی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک کو اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرنا ہوگا۔