World
غزہ میں تباہ حال عمارتیں خطرہ بن گئیں، تعمیر نو کا کام معطل
غزہ میں تعمیر نو کا عمل تعطل کا شکار ہونے کے باعث جنگ سے متاثرہ شہریوں کو خطرناک عمارتوں میں پناہ لینی پڑ رہی ہے۔ حالیہ المیہ کے بعد ریسکیو حکام تباہ حال عمارتوں سے مکینوں کے انخلا کے لیے کوشاں ہیں۔
غزہ میں تعمیر نو کا عمل مکمل طور پر تعطل کا شکار ہونے کے بعد جنگ سے متاثرہ اور خستہ حال عمارتیں شہریوں کے لیے جان لیوا جال بنتی جا رہی ہیں۔ آنے والا سرد موسم غزہ کی اس خطرناک اور جنگ زدہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے، جہاں ہزاروں بے گھر افراد پہلے ہی تباہ شدہ ڈھانچوں کے اندر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مناسب فنڈز، تعمیراتی سامان کی عدم دستیابی اور مسلسل پابندیوں کی وجہ سے بحالی کے کاموں میں شدید تاخیر ہو رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک اور المیہ اس وقت پیش آیا جب غزہ میں ایک رہائشی عمارت اچانک منہدم ہو گئی، جس کے نتیجے میں اکیس افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اس دلخراش واقعے کے بعد مقامی حکام اور سول دفاع کے اداروں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور وہ دیگر خستہ حال عمارتوں سے فوری طور پر شہریوں کے انخلا کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کوششیں کر رہے ہیں۔ عینی شاہدین اور فلاحی تنظیموں کے مطابق، بہت سے خاندانوں کے پاس رہنے کے لیے کوئی دوسری جگہ موجود نہیں ہے، اس لیے وہ مجبوری کے تحت انہونی کے خوف کے باوجود انھی تباہ حال مکانات میں رہ رہے ہیں۔ مقامی حکام اور عالمی میڈیا کے رپورٹس کے مطابق اس عمارت کے گرنے کا ذمہ دار فریقین کو ٹھہرایا جا رہا ہے جبکہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ غزہ کے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر امداد اور تعمیر نو کے سامان کی ترسیل کو یقینی بنائیں تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے اور بے گھر افراد کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا سکیں۔