LIVE
Loading Breaking News...

امریکی پابندیوں کے باوجود ایرانی پروازوں کا چین اور تھائی لینڈ کا سفر

News Image
امریکی پابندیوں اور دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے ایرانی پروازیں چین اور تھائی لینڈ کے لیے روانہ ہو گئی ہیں۔ چین نے تہران کے خلاف عائد کردہ غیر قانونی پابندیوں کی کھل کر مخالفت کی ہے۔
امریکی پابندیوں اور دھمکیوں کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ایرانی پروازیں چین اور تھائی لینڈ کے لیے روانہ ہو گئی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تہران عالمی دباؤ کے باوجود اپنی فضائی نقل و حرکت کو جاری رکھنے پر بضد ہے۔ فلائٹ ٹریکرز کے مطابق ایک ایرانی پرواز امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود کامیابی کے ساتھ چین میں زمین پر اتر چکی ہے۔ دوسری جانب، چین نے تہران کے خلاف عائد کردہ امریکی پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مخالفت کی ہے، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے اس سے قبل یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ تمام ایرانی ایئر لائنز کو دنیا بھر میں اپنی بین الاقوامی پروازیں بند کرنا ہوں گی، تاہم ایران نے اس دباؤ کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ایرانی ایئر لائن حکام کا کہنا ہے کہ استنبول، باکو اور نجف کے لیے پروازیں بھی معمول کے مطابق جاری و ساری ہیں۔ ایران کا یہ مؤقف ہے کہ وہ یکطرفہ اور ظالمانہ امریکی پابندیوں کے سامنے سر نہیں جھکائے گا اور اپنے بین الاقوامی فضائی روابط کو ہر ممکن طریقے سے برقرار رکھے گا۔ اس صورتحال نے مشرق وسطیٰ اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ تہران کو اپنے جوہری اور علاقائی مؤقف پر مجبور کیا جا سکے، لیکن چین جیسی بڑی اقتصادی طاقتوں کا ایران کی حمایت میں سامنے آنا اس امریکی حکمت عملی کے لیے ایک بڑا دھکا ہے۔ عالمی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پیش رفت بین الاقوامی سیاست میں ایک نئے محاذ کو جنم دے رہی ہے جہاں امریکہ کی حریف طاقتیں واشنگٹن کی عائد کردہ پابندیوں کو کھلے عام چیلنج کر رہی ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کا ہوابازی کا شعبہ تمام تر بیرونی مشکلات کے باوجود اپنے اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مسافروں کی نقل و حرکت اور تجارت کو جاری رکھنے کے لیے متبادل راستے اور شراکت دار تلاش کیے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا امریکہ اس چیلنج کے جواب میں کوئی مزید سخت اقدامات اٹھاتا ہے یا پھر دیگرممالک بھی تہران کے ساتھ فضائی اور تجارتی تعلقات بحال رکھنے میں چین کی پیروی کرتے ہیں۔