Entertainment
فرانسیسی ادبی ایوارڈ تنازع: مصنف پر اے آئی کے استعمال کا الزام
کینیڈین ہائیتی مصنف تھیلیسن اوریلیئن کو ان کے پہلے ناول پر فرانس کا معروف فیناک ناول ایوارڈ دیا گیا ہے۔ تاہم، اس کامیابی کے بعد ادبی حلقوں میں ان پر مصنوعی ذہانت کے استعمال کے الزامات کے تحت شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
فرانس کے ادبی حلقوں میں اس وقت شدید ہنگامہ برپا ہو گیا جب کینیڈین ہائیتی نژاد مصنف تھیلیسن اوریلیئن کو ان کے پہلے ناول پر ملک کے مایہ ناز 'پرکس دو رومان فیناک' سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز فرانسیسی ادبی دنیا میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس کا اعلان سال کے اہم ترین ادبی لمحات میں ہوتا ہے۔ تاہم، اس کامیابی کی خوشیاں اس وقت ماند پڑ گئیں جب سوشل میڈیا اور ادبی جریدوں میں یہ بحث چھڑ گئی کہ مصنف نے اپنے ناول کی تخلیق میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی مدد حاصل کی تھی۔
اس تنازع کے بعد فرانسیسی اور بین الاقوامی ادبی برادری میں دو واضح گروہ بن گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تخلیقی صلاحیتوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال روایتی ادب کی روح کے منافی ہے اور اس سے حقیقی لکھاریوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔ دوسری جانب، مصنف کے حامیوں اور ایوارڈ دینے والی کمیٹی کا کہنا ہے کہ تخلیقی عمل میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کوئی جرم نہیں ہے، بشرطیکہ بنیادی کہانی اور اس کا تصور مصنف کا اپنا ہو۔ اس معاملے پر ابھی تک باضابطہ تحقیقات یا مصنف کی جانب سے کوئی تفصیلی تردید سامنے نہیں آئی ہے، لیکن ادبی مبصرین اسے مستقبل کے تنازعات کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔
اس صورتحال نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اس بحث کو تازہ کر دیا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت کے دور میں انسان اور مشین کے درمیان تخلیقی سرحدیں مٹ رہی ہیں؟ ادب اور آرٹ کے شعبوں میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے پہلے ہی سے اخلاقی سوالات کھڑے کر رکھے ہیں، اور اب اس متنازع ایوارڈ نے اس بحث کو مزید ہوا دے دی ہے۔ آنے والے دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ ادبی تنظیمیں اس معاملے پر سخت ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کے لیے غور و خوض کریں گی تاکہ اس طرح کے تنازعات سے بچا جا سکے۔