LIVE
Loading Breaking News...

لبنان کے سرحدی دیہات اسرائیلی تباہی کے بعد کھنڈر بن گئے

News Image
اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور شدید گولہ باری کے نتیجے میں لبنان کے جنوبی سرحدی دیہات مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ اس وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی کی وجہ سے ہزاروں مقامی باسی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی شدید بمباری اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں لبنان کے جنوبی سرحدی دیہات ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ ان علاقوں میں تعمیرات کا نام و نشان مٹ چکا ہے اور ہر طرف تباہ شدہ مکانات، ٹوٹی ہوئی سڑکیں اور ملبے کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ مقامی حکام اور عالمی اداروں کے مطابق، اس عسکری تصادم نے لبنانی سرحد سے متصل بستیوں کو اس طرح متاثر کیا ہے کہ یہاں زندگی کا نام و ندان باقی نہیں رہا۔ اس وسیع تر تباہی کی وجہ سے ہزاروں خاندان اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ لوگوں نے اپنے گھروں کو مجبوری کے عالم میں چھوڑا ہے اور وہ ملک کے دوسرے محفوظ حصوں میں عارضی پناہ گاہوں یا رشتہ داروں کے یہاں رہنے پر مجبور ہیں۔ سرحدی علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ، بشمول بجلی، پانی اور صحت کی سہولیات، بری طرح متاثر ہوا ہے جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے لبنان کی اس ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحدی دیہات کی بحالی اور متاثرہ خاندانوں کی اپنے گھروں کو واپسی ایک طویل اور صبر آزما عمل ہوگا، جس کے لیے کروڑوں ڈالر کے فنڈز اور طویل مدتی تعمیر نو کے منصوبوں کی ضرورت ہوگی۔ اس دوران متاثرہ افراد سخت سردی اور معاشی مشکلات کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔