LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا بڑھتا ہوا سیاسی اثر و رسوخ

News Image
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ڈیڈلاک اور بدلتی ہوئی عالمی سیاست کی وجہ سے جنرل اسمبلی کا سیاسی وزن بڑھ رہا ہے۔ عالمی سطح پر کثیر قطبی نظام کے ابھرنے سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کے لیے فورم کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
عالمی سیاست میں حالیہ برسوں کے دوران ایک اہم تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے برعکس جنرل اسمبلی کا سیاسی وزن اور اثر و رسوخ بتدریج بڑھ رہا ہے۔ سلامتی کونسل میں طویل عرصے سے جاری تعطل اور بڑی طاقتوں کے درمیان تنازعات کی وجہ سے عالمی ادارے کے فیصلے جمود کا شکار ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی برادری کا رجحان اب جنرل اسمبلی کی طرف زیادہ ہو گیا ہے۔ کثیر قطبی دنیا کے ابھرنے کے ساتھ ہی روایتی سپر پاورز کی اجارہ داری کمزور پڑی ہے اور دنیا بھر کے ممالک اب عالمی مسائل کے حل کے لیے اس بڑے فورم کا رخ کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کے استعمال نے کئی بار اہم عالمی بحرانوں پر سلامتی کونسل کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں جنرل اسمبلی ایک ایسا متبادل اور جمہوری پلیٹ فارم بن کر ابھری ہے جہاں تمام رکن ممالک کو یکساں آواز ملتی ہے۔ اگرچہ جنرل اسمبلی کی قراردادیں قانونی طور پر اتنی پابند نہیں ہوتیں جتنی کہ سلامتی کونسل کی، لیکن ان کی اخلاقی اور سیاسی اہمیت عالمی رائے عامہ کو تشکیل دینے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک بھی اب عالمی سطح پر اپنے تحفظات کا اظہار کھل کر کر رہے ہیں۔ کثیر قطبی نظام کے تحت طاقت کا مرکز اب صرف چند دارالحکومتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کے مختلف خطے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے متحرک ہو چکے ہیں۔ اس تبدیلی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو عالمی سفارتکاری کا ایک نیا اور طاقتور مرکز بنا دیا ہے جہاں مستقبل کے بڑے فیصلے طے پانے کا امکان ہے۔