World
اقوام متحدہ: ایرانی صدر کی تقریر پر امریکی سفیر کا واک آؤٹ
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے ایرانی صدر کے خطاب کے آغاز پر ہی امریکی وفد کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ہال سے واک آؤٹ کر دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایرانی صدر تہران پر جنگ اور پابندیوں کے خلاف سخت مؤقف بیان کر رہے تھے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے دوران اس وقت ایک نیا سفارتی تنازعہ کھڑا ہو گیا جب ایرانی صدر کی تقریر کے آغاز پر ہی امریکی وفد کے ایک عہدیدار نے ہال سے واک آؤٹ کر دیا۔ یہ ڈرامائی منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں ایران کے خلاف جاری جنگی پالیسیوں اور پابندیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ عالمی رہنماؤں کے اس بڑے اجتماع میں یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی کی عکاسی کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، جیسے ہی ایرانی صدر نے روڈیم پر آکر اپنا خطاب شروع کیا اور تہران کے خلاف مغربی پالیسیوں پر بات کرنا شروع کی، امریکی وفد میں موجود ایک سفارتکار نے احتجاجاً اپنی نشست چھوڑی اور ہال سے باہر چلے گئے۔ اس اقدام کو تہران اور واشنگتن کے درمیان جاری سفارتی سرد جنگ کا ایک اور واضح ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ جیسے عالمی پلیٹ فارمز پر اس طرح کے علامتی احتجاج اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے امور اور بالخصوص ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی پالیسیوں پر دونوں فریقین کے مابین خلیج بدستور گہری ہے۔ ایرانی صدر کی یہ تقریر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی رہی، جس میں انہوں نے خطے میں امن و امان کی صورتحال اور بیرونی مداخلت کے منفی اثرات پر روشنی ڈالی۔ دوسری جانب، امریکی وفد کی جانب سے اس واک آؤٹ پر فوری طور پر کوئی تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم اس عمل کو واشنگتن کی طرف سے ایرانی مؤقف کے خلاف ایک واضح سفارتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران دیگر عالمی رہنماؤں کی توجہ بھی اپنی جانب کھینچ لی ہے، جو اس صورتحال کو موجودہ جیو پولیٹیکل منظر نامے میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔