LIVE
Loading Breaking News...

سپر ایل نینو کے خطرات: سائنسی انتباہ اور عالمی اثرات

News Image
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سپر ایل نینو نامی موسمیاتی رجحان دنیا بھر میں شدید تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں گلوبل ساؤتھ کے ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے اور لاکھوں جانوں کا خطرہ ہے۔
عالمی سطح پر سائنسدانوں اور ماہرینِ موسمیات نے ایک انتہائی تشویشناک انتباہ جاری کیا ہے جس کے مطابق طاقتور 'ایل نینو' کا رجحان زمین کے ماحول کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ جون سے لے کر فروری تک دنیا کے مختلف حصوں میں اس کے ہولناک اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں، جن کی وجہ سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق اس قدرتی مظہر کی وجہ سے عالمی سطح پر تقریباً چار لاکھ پچاس ہزار افراد کی اموات کا خطرہ موجود ہے، جو کہ انسانی صحت اور معیشت کے لیے ایک بڑا دھماکہ خیز چیلنج بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سب سے زیادہ گلوبل ساؤتھ یعنی ترقی پذیر اور جنوبی نصف کرے کے ممالک پر مرتب ہوں گے۔ ان خطوں میں پہلے ہی موسمیاتی شدت، خوراک کی قلت اور پانی کے مسائل پائے جاتے ہیں، اور سپر ایل نینو ان تمام مسائل میں مزید شدت پیدا کر دے گا۔ شدید خشک سالی، سیلاب، فصلوں کی تباہی اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ اس رجحان کے بنیادی مظہر ہیں جو کہ براہ راست انسانی آبادی کو متاثر کریں گے۔ حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ طبی عملے، خوراک کے ذخائر اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں کو ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت کی جا رہی ہے تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اگر وقت پر مناسب حکمت عملی اختیار نہ کی گئی تو یہ موسمیاتی بحران انسانی تاریخ کے بڑے سانحات میں سے ایک بن سکتا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر تعاون ناگزیر ہے۔